.

ایرانی ٹرک پر حملے کے بعد ترکی کے ساتھ سرحدی گذرگاہ بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ترکی کے سرحدی علاقے میں اپنے ایک ٹرک پر حملے کے بعد پڑوسی ملک کے ساتھ واقع واحد سرحدی گذرگاہ بند کردی ہے۔

ترکی کے سرحدی علاقے میں منگل کی شب ایران سے داخل ہونے والے گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا تھا اور ایک ٹرک کو نذرآتش کردیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے لیکن ترکی کے علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں نے ایک مرتبہ پھراس علاقے میں شورش برپا کررکھی ہے۔

ایران کے روڈ ٹریفک کے ادارے کے سربراہ داؤد کشاورزیاں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ترکی میں کل رات ایک ایرانی ٹرک پر نئے حملے کے بعد بازارگان سرحدی چوکی کو بند کر دیا گیا ہے''۔تاہم انھوں نے وضاحت کی ہے کہ ترکی کی جانب سے ایران میں داخلے کے لیے بارڈر کھلا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''خوش قسمتی سے ڈرائیور زندہ بچ گیا ہے لیکن اس کا ٹرک جل گیا ہے''۔ انھوں نے بیان میں بتایا ہے کہ انھوں نے ترک سفیر سے بات کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ ترک حکومت اپنے ملک میں ایرانی ڈرائیوروں کے تحفظ کو بالکل اسی طرح یقینی بنائے جس طرح کہ ایران میں ترک ڈرائیوروں کا تحفظ کیا جاتا ہے''۔

واضح رہے کہ 20 مارچ کو ایران کے رواں مالی سال کے آغاز کے بعد سے ملک کے شمال مغرب میں واقع بازارگان سرحدی گذرگاہ سے اکہتر ہزار سے زیادہ ٹرکوں کی آمد ورفت ہوچکی ہے۔

ایران نے ہفتے کے روز اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ ترکی میں زمینی سفر سے گریز کریں۔یہ انتباہ ترکی کے مشرقی علاقے میں ایک ایرانی بس پر مسلح افراد کے حملے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

جولائی کے آخر میں ترکی کے مشرقی علاقے ہی میں ریلوے پٹڑی پر دو بم دھماکوں کے بعد ایران نے انقرہ اور تہران کے درمیان ٹرین سروس معطل کردی تھی۔ترکی کے صوبے اگری میں ایران ،ترکی گیس پائپ لائن کو بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔

ترکی کے کرد اکثریتی جنوبی قصبے سوروچ میں 22 جولائی کو ایک خودکش بم دھماکے میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے ایران ، عراق اور شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقوں میں ترک سکیورٹی فورسز پر کرد جنگجوؤں کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور اس کے جواب میں ترک فوج بھی شمالی عراق میں اور ملک کے اندر کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہی ہے۔

تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد ترک حکومت اور علاحدگی پسند کرد باغیوں کی جماعت کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے ) کے درمیان دو سال قبل طے پانے والا جنگ بندی کا سمجھوتا ختم ہوچکا ہے۔ترکی نے شام اور عراق میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش پر سوروچ میں خودکش بم حملے کا الزام عاید کیا تھا۔اس واقعے کے بعد ترک فضائیہ نے شام کے شمالی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی ہے۔