.

ایمن الظواہری کا افغان طالبان کے نئے امیر کی بیعت کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے افغان طالبان کے نئے امیر ملّا اختر منصور کی بیعت کا اعلان کیا ہے۔

القاعدہ نے ڈاکٹر ایمن الظواہری کا ایک آڈیو پیغام انٹرنیٹ پر جاری کیا ہے۔اس میں انھوں نے افغان طالبان کے نئے امیر کے ساتھ وفاداری اور مرحوم ملّا محمد عمر کی وفات پر ان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔گذشتہ سال ستمبر کے بعد ان کا یہ پہلا آڈیو پیغام ہے جو جمعرات کو جاری کیا گیا ہے۔

القاعدہ اور ڈاکٹر ایمن الظواہری ملّا محمد عمر کو عالمی جہادی تحریک کا امیر تسلیم کرتے رہے ہیں اور انھوں نے عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض ہوکر اپنی حکومت قائم کرنے والے داعش کے خود ساختہ خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''ہم امیرالمومنین ملّا محمد اختر منصور کی بیعت کرتے ہیں۔اللہ ان کی حفاظت فرمائے''۔دو مغربی خبررساں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے سربراہ کی اس آڈیو ٹیپ کے مصدقہ ہونے کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن قرآئن اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آڈیو انہی کی ہے۔

انھوں نے ایسے وقت میں طالبان کے نئے امیر کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کیا ہے جب عالمی سطح پر القاعدہ کو داعش کے خطرے کا سامنا ہے۔طالبان اور القاعدہ کے ناراض عناصر داعش میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جبکہ داعش کے جنگجو شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور افغانستان میں طالبان سے محاذ آراء ہیں۔بعض دوسرے ممالک میں بھی داعش تیزی سے اپنے قدم جما رہی ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے نئے امیر ملّا اختر محمد منصور کو خود اپنی مزاحمتی تحریک کے طاقتور کمانڈروں کی مخالفت کا سامنا ہے۔مرحوم ملّا عمر کے خاندان سمیت یہ کمانڈر ان کی بیعت سے انکار کرچکے ہیں اور انھوں نے علماء پر زوردیا ہے کہ وہ طالبان کی قیادت میں اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

افغان طالبان نے گذشتہ ماہ اپنے امیر ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے ایک روز بعد ان کے نائب ملّا اختر محمد منصور کو اپنا نیا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔وہ اس سے قبل تحریک کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔لیکن ان کی امارات کے اعلان کے بعد ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ملّا عمر کے صاحبزادے ملّا یعقوب اور ان کے چھوٹے بھائی ملّا عبدالمنان بھی ان کے مخالفین میں شامل ہیں۔

افغان طالبان کی صفوں میں انتشار کی خبروں کے بعد پاکستان کی سرکردہ سیاسی ودینی شخصیت مولانا سمیع الحق سرگرم ہوگئے اور وہ طالبان کے درمیان اختلافات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔بعض دوسرے سرکردہ علماء بھی ان کوششوں میں ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

ملّا عمر کے انتقال کی خبر کے بعد سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا عمل بھی تعطل کا شکار ہوچکا ہے اور اب بہت سے طالبان کمانڈر افغان حکومت کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انھیں پاکستان کی جانب سے ایسا کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

مگر افغان طالبان کے نئے امیر امن مذاکرات کے حامی ہیں اور انھوں نے ملّا عمر کی وفات کے دنوں ہی میں مذاکرات کا ڈول ڈالا تھا تاکہ صورت حال سے فائدہ اٹھایا جاسکے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ملّا عمر کی وفات کی خبرعام ہونے سے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اب امن مذاکرات کے حوالے سے ان کے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں۔

طالبان نے حالیہ دنوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں تباہ کن بم دھماکے کیے ہیں۔ان واقعات کے ردعمل میں افغان صدر اشرف غنی اور دوسرے عہدے داروں نے ایک مرتبہ پھر اپنی توپوں کا رُخ پاکستان کی جانب کر لیا ہے کہ وہ اس پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔