.

یمن: ڈرون حملے میں القاعدہ کے پانچ جنگجوؤں کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مشرقی ساحلی شہر المکلا کے نزدیک امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے حملے میں القاعدہ کے پانچ مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

یمنی حکام کے مطابق القاعدہ کے جنگجو ایک کار میں سوار تھے اور وہ المکلا سے مشرق میں واقع ایک ساحلی شاہراہ پر سفر کررہے تھے۔اس دوران امریکی ڈرون نے اس کار کو بموں سے نشانہ بنایا ہے۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپریل میں یمنی سکیورٹی فورسز کی پسپائی کے بعد سے المکلا پر قبضہ کررکھا ہے۔اس دوران ان پر اس شہر میں متعدد ڈرون حملے کیے جاچکے ہیں۔امریکا کی سنٹرل انٹیلی ایجنسی (سی آئی اے) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہی یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملے کررہی ہے لیکن امریکا نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور نہ کبھی ذمے داری قبول کی ہے۔

امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس جنگجو گروپ نے پہلے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔

گذشتہ سال ستمبر میں حوثی شیعہ باغیوں کی دارالحکومت صنعا پر چڑھائی اور اس پر قبضے کے بعد سے پورے ملک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔حوثیوں کی یلغار کے بعد صدر عبد ربہ منصور ہادی صنعا سے عدن کی جانب جان بچا کر بھاگ گئے تھے اور حوثیوں نے عدن اور دوسرے جنوبی شہروں کی جانب بھی چڑھائی کردی تھی۔

اس دوران القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے المکلا اور بعض دوسرے جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔اب ان کی ان شہروں میں حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں نے منگل کے روز وسطی صوبے البیضاء میں حوثی جنگجوؤں پر بارہ حملے کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔تاہم ان حملوں میں جانی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔