.

'جنوبی یمن سے باغیوں کا صفایا، صنعاء کا گھیرائو'

حکومت نواز جنگجووں کی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی یمن کے پانچ اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور حوثی باغیوں کا صفایا کرنے کے بعد آئینی حکومت کی بحالی میں سرگرم مزاحمتی ملیشیا اور فوج نے وسطی یمن کے اضلاع کی طرف پیش قدمی شروع کی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے دارالحکومت صنعاء کے اطراف کے تین اہم اضلاع مشرق سے مآرب اور البیضاء جب کہ جنوب سے اِب گورنری پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد صنعاء کا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔

'العربیہ' کے مطابق اِب گورنری کی سمت سے صنعاء کی طرف بڑھتے ہوئے راستے میں الذمار گورنری کے علاوہ درمیان میں اور کوئی پڑائو نہیں۔ یوں اب گورنری پر حکومت نواز ملیشیا کا کنٹرول ان کے لیے دارالحکومت کی طرف پیش قدمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ذمار اور البیضاء گورنری کے باقی ماندہ علاقوں پر کنٹرول کے حصول کے لیے مزاحمتی ملیشیا نے لڑائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ گذشتہ روز ہونے والی جھڑپوں میں دونوں اطراف سے بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا۔

البیضاء گورنری میں خونریز جھڑپوں کے بعد حکومت نواز ملیشیا نے کئی اہم حکومتی مراکز پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب رداع شہر پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔

مشرقی سمت سے مآرب کے میں بھی مزاحمت کاروں نے اپنی عسکری صلاحیت اور نفری میں اضافہ کیا ہے۔ کئی مفتوحہ علاقوں میں اضافی اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کیا جا رہا ہے۔ شمالی مآرب میں جدعان محاذ اور صنعاء کے درمیان صرف پچاس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔
مآرب کے قریب ہی ارحب قبیلہ آباد ہے جو دارالحکومت صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس قبیلے کی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ ہیں اور وہ باغیوں کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ الجدعان اور مآرب کے محاذوں کو ان کے درمیان قبائل کو ملا کر باہم مربوط کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح دونوں کے درمیان فاصلہ مزید کم ہو جائے گا اور باغیوں کی سرکوبی آسان ہو گی۔