.

شام میں ترک فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے زمینی فوج بھیجنے کا فی الوقت کوئی ارادہ نہیں ہے۔ البتہ ایسی کوئی تجویز زیرغوررہنی چاہیے۔

وزیرخارجہ نے جمعرات کے روز حبر(خبر) ترک ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''اس وقت تک تو ترکی کا شام میں زمینی آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں ہے مگر مستقبل میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے زمینی کارروائیوں سمیت ہر ضروری اقدام کیا جانا چاہیے اور یہ میری ذاتی رائے ہے''۔

انھوں نے یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ان اطلاعات کی تردید کے بعد کہی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان شمالی شام میں ''محفوظ زون'' کے قیام کے لیے سمجھوتا طے پا گیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے انڈر سیکریٹری فریدون سنیرلی اوغلو نے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان شام کے شمال میں ترکی کی سرحد کے نزدیک اٹھانوے کلومیٹر طویل اور پینتالیس کلومیٹر عریض علاقے میں محفوظ زون کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس علاقے میں مغرب کی حمایت یافتہ شام کی جیش الحر کے جنگجو گشت کیا کریں گے۔

مگر امریکی محکمہ خارجہ نے اس کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا کہ ایسا کوئی سمجھوتا طے نہیں پایا ہے۔ درایں اثناء اسی حوالے سے ایک اور خبر یہ ہے کہ امریکا نے ترکی میں موجود اپنے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کے ذریعے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر پہلا فضائی حملہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی نے گذشتہ ماہ شام کے ساتھ واقع سرحدی قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے میں بتیس افراد کی ہلاکت اور سکیورٹی فورسز پر پے درپے حملوں کے بعد داعش مخالف جنگ میں شرکت سے متعلق اپنے موقف میں تبدیلی کی ہے اور اس نے خود بھی شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے شروع کردیے ہیں۔

اس نے حال ہی میں امریکا کو جنوبی شہر عدنہ کے نزدیک واقع انچرلیک ائیربیس کو داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔قبل ازیں ترکی کے ہوائی اڈوں سے اڑنے والے امریکی طیارے شام میں صرف فضائی نگرانی کے لیے پروازیں کرتے تھے اور داعش یا دوسرے جنگجو گروپوں پر بمباری نہیں کرتے تھے۔