.

داعش مخالف حملے،لیبیا کی درخواست پر عرب لیگ کا اجلاس طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے لیبیا کی درخواست پر سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف کارروائی کے لیے آیندہ منگل کو اپنا غیرمعمولی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے عرب ممالک سے وسطی شہر سرت میں دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف فضائی حملوں کی درخواست کی ہے اور ان پر زوردیا ہے کہ وہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں۔

لیبیا کے مشرقی شہر طبرق میں قائم وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت نے سرت میں داعش کی حالیہ کارروائیوں کے بعد ہفتے کی رات جاری کردہ ایک بیان میں عرب ممالک سے فضائی حملوں کا مطالبہ کیا ہے لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا اس نے اس ضمن میں عرب لیگ سے باضابطہ طور پر بھی کوئی درخواست کی ہے یا نہیں اور آیا تنظیم ایسے کسی اقدام پر غور کرے گی۔

قاہرہ میں مصر اور عرب لیگ کے لیے اردن کے سفیر بشر خساونہ نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''منگل کو ہونے والے اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے مستقل مندوب شرکت کریں گے''۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو جون سے لیبیا کے معزول صدر مقتول معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضے کے لیے مقامی فورسز سے لڑرہے ہیں۔ان کے درمیان حالیہ لڑائی گذشتہ منگل کو چھڑی تھی۔ہفتے کے روز داعش کے جنگجوؤں نے مقامی ملیشیا کے بارہ ارکان کے سرقلم کرکے ان کی لاشیں شہر کے مشرقی حصے میں مختلف چوراہوں پر لٹکا دی تھیں۔

مصر اور متحدہ عرب امارات نے حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے اور ان کے لڑاکا طیاروں نے طبرق میں قائم حکومت کی مخالف ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر بھی بمباری کی تھی۔تاہم لیبی حکومت کی جانب سے ماضی میں کی گئی درخواستوں کے باوجود عراق اور شام کی طرح لیبیا میں داعش کے خلاف باقاعدہ فضائی مہم شروع نہیں کی گئی ہے۔