.

شام میں فرقہ وارانہ بنیادوں پرآبادیاتی تقسیم کی ایرانی سازش

شامی باغیوں اور ایرانی حکام کے درمیان مذاکرات ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں کرد اکثریتی علاقے الزبدانی اور دوسرے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کی واپسی کے سلسلے میں شامی باغیوں سے مذاکرات کیےہیں لیکن العربیہ ڈاٹ نیٹ کو معلوم ہوا ہے کہ ایران خانہ جنگی کے دوران خالی ہونے والے علاقوں میں شیعہ آبادی کی فرقہ وارانہ بنیادوں پرآباد کاری کی سازش کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی باغیوں اور ایران کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات حال ہی میں ترکی کے شہر استنبول میں ہوئے۔ مذاکرات میں دمشق کے مضافاتی سرحدی علاقے الزبدانی، ادلب کے کفریا اور الفوعہ قصبوں میں شہریوں کی واپسی اور آباد کاری کے فریم ورک پر بات چیت کی گئی۔ شامی مذاکراتی ٹیم کےایک مقرب ذریعے نے بتایا کہ الزبدانی میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان جنگ بندی کی ایرانی کوشش ناکام ہوگئی ہے کیونکہ ایران الزبدانی اور ادلب کے دو قصبوں کے سنی باشندوں کو حمص کے القصیر کے علاقے میں آباد کرنے پر زور دے رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ القصیر پر سنہ 2013ء کے موسم گرما میں بشارالاسد کے حامی شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ نے قبضہ کرلیا تھا تاہم اب وہ علاقہ خالی ہے۔ ایرانی حکام چاہتے ہیں کہ الزبدانی اور ادلب کے دو خالی ہونے والی قصبوں کے باشندوں کو دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کرنے کے بجائے القصیر میں منتقل کردیا جائے تاہم باغیوں نے ایران کی یہ تجویز ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کردی ہے۔ کیونکہ اس طرح کی تجویز سے نہ صرف فرقہ وارانہ بنیادوں پر ملک تقسیم ہو رہا ہے بلکہ نقل مکانی کرنے والے شہری اپنی املاک اور گھر بار چھوڑنے پر آمادہ بھی نہیں ہیں۔

انقلابیوں کا کہنا ہے کہ کفریا اور الفوعہ کے باشندے شامی فوج کی بمباری کی وجہ سے عارضی طور پر دوسرے محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ وہ ہمیشہ کے لیے وہاں سے نہیں گئے کہ ان کی جائیدادوں پر دوسرے لوگوں کو آباد کر دیا جائے۔ ان دونوں قصبوں کی آبادی صدیوں سے وہاں آباد ہے۔ اگر آج شام کے دو قصبوں اور الزبدانی شہر کی آبادی کو ادھر اُدھر منتقل کیا جاتا ہے تو ملک میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ شامی باغیوں اور ایرانی مندوبین کے درمیان مذاکرات کا جمعہ کے روز ہونےوالا دور ناکام ہوگیا ہے تاہم مذاکرات کی بحالی کا امکان بھی موجود ہے۔ الزبدانی کے باغیوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پہلی شرط جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی بحالی کی رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا مطالبہ ہے کہ حزب اللہ اور شامی فوج الزبدانی کے زیرقبضہ قصبوں سے نکل جائیں۔ تمام اہم اداروں کو بحال کیا جائے تاکہ نظام زندگی دوبارہ رواں دواں ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق الزبدانی میں باغیوں نے ایرانی حکام کو کہلا بھیجا ہے کہ اگر وہ مذاکرات چاہتے ہیں توانہیں ملک میں آبادیاتی تقسیم کی سازش کے بجائے ملک کی وحدت کو سامنے رکھتے ہوئے بات چیت کرنا ہوگی۔ نئے اصولوں پر مذاکرات بحال کیے جائیں گے۔ دمشق کے قریب وادی بردیٰ کے باشندوں کو کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کہ تجویز بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

درایں اثناء شامی اپوزیشن کےنیشنل الائنس کے رکن جواد ابو حطب نے کہا ہے کہ انقلابی کارکنوں نے وادی بردیٰ سے پانی کی مشق کو سپلائی بحال کردی ہے۔ قبل ازیں پچھلے ہفتے شامی فوج کی وادی بردایٰ پر بمباری سے پائپ لائن تباہ اور کم سے کم 20 عام شہری جاں بحق ہو گئے تھے۔ اپوزیشن رہ نما نے الزام عاید کیا کہ اسدی فوج دانستہ طورپر پانی پائپ لائنوں کو تباہ کرکے شہریوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے لیکن انقلابی کارکنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت پائپ لائن کی مرمت کرکے پانی کی ترسیل بحال کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے طورپر مذاکرات کی آڑ میں شام کے شہروں القلمون، دمشق، الزبدانی، حمص کے بعض علاقوں، طرطوس، اللاذقیہ کے بعض شہروں اور لبنان کو ملا کر ایک شیعہ ریاست کی تشکیل سازش کررہا ہے۔