.

کویت میں ضبط شدہ اسلحہ ایران سے لایا گیا تھا: میڈیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویتی میڈیا نے اپنی تازہ رپورٹس میں کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے ملک میں ضبط کیے گئے اسلحے کی بھاری مقدار ایران سے اسمگل کی گئی تھی۔

کویتی وزارت داخلہ نے گذشتہ جمعرات کو عراق کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں مکانوں کے اندر بنائے گئے تہ خانوں سے بھاری مقدار میں دستی بم ،گولہ بارود اور ہتھیار برآمد کرنے کی اطلاع دی تھی۔حکام نے ان مکانوں کے تین مالکان کو حراست میں لے لیا تھا۔

کویتی روزنامے الانباء نے تب حکام کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ اسلحہ اور گولہ بارود عراق کے سرحدی علاقے سے کویت میں اسمگل کیا گیا تھا اور اس کو ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے ایک سیل نے استعمال کرنا تھا۔

لیکن دو کویتی اخبارات الرائے اور القبس نے بے نامی ذرائع کے حوالے سے اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھا ہے کہ یہ اسلحہ ایران سے سمندری راستے سے کویت لایا گیا تھا۔انھوں نے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ نئی معلومات گرفتار مشتبہ افراد سے دوران تفتیش حاصل ہوئی ہیں۔

القبس نے لکھا ہے کہ اسلحہ اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد تیرہ ہوگئی ہے۔ان مشتبہ افراد نے انکشاف کیا ہے کہ ''ایران سے سمندر کے راستے اسلحہ اسمگل کرنے کے لیے ایک براہ راست لائن کویت تک آتی ہے''۔کویتی وزارت داخلہ نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

ایک اور اخبار جریدہ نے لکھا ہے کہ پاسداران انقلاب ایران نے ایک سال قبل اس سیل کے ارکان کو بحراحمر کے ایک گم نام جزیرے پر اسلحہ چلانے اور گولہ وبارود استعمال کرنے کی تربیت دی تھی۔اس کے ساتھ سعودی عرب اور بحرین سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی تربیت دی گئی تھی۔

اخبار کے مطابق ان افراد نے یمن کے حوثی باغیوں کے زیر قبضہ ایک بندرگاہ کے ذریعے اس جزیرے تک سفر کیا تھا۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے یمن کے شمالی علاقے پر قبضہ کررکھا ہے اور ان کا بعض جنوبی شہروں پر بھی قبضہ برقرار ہے۔ البتہ انھیں حالیہ دنوں میں یمنی حکومت کی وفادار فورسز کے ہاتھوں پے درپے شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ کویت میں 26 جون کو ایک مسجد میں خودکش بم دھماکے کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔اس بم دھماکے میں ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے ردعمل میں کویتی وزیرداخلہ نے کہا تھا کہ ان کا ملک انتہا پسند جنگجوؤں کے خلاف حالت جنگ میں ہے جو معاشرے میں فرقہ واریت کے بیج بونے بونے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایران اور اس کے ہمسایہ خلیجی عرب ممالک کے درمیان تعلقات ایک عرصے سے کشیدہ چلے آرہے ہیں۔عرب ممالک کوشُبہ ہے کہ ایران شام ،عراق اور یمن سمیت دوسرے ممالک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے اور وہ ان کے داخلی امور میں بھی بعض گروپوں کی حمایت کے ذریعے مداخلت کررہا ہے۔