.

اسرائیل نے حماس سے جنگ بندی مذاکرات کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے حماس کے ساتھ دیر پاء جنگ بندی کے لئے خفیہ مذاکرات کی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے اسلام پسند مسلح گروپ سے کوئی مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے "اسرائیل سرکاری طور پر اس امر کی وضاحت کررہا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ براہ راست یا کسی ثالث کے ذریعے سے مذاکرات نہیں کررہا ہے۔"

حالیہ ہفتوں کے دوران عرب اور ترک میڈیا ذرائع نے کئی رپورٹس شائع کی ہیں جنہیں بعد میں اسرائیلی میڈیا اداروں نے بھی شائع کیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی اور فلسطینی تنظیم کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ان مذاکرات میں دس سالہ جنگ بندی معاہدے کے آٹھ سال کے مکمل ہونے پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ساحلی پٹی پر سے محاصرہ اٹھانے کی بات چیت جاری تھی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان پچھلے سال ماہ جولائی اور اگست میں ہونیوالی 50 دنوں پر محیط جنگ کے دوران تقریبا 2200 فلسطینی شہید اور اسرائیل کی طرف 73 ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ غزہ میں دسیوں ہزاروں گھر کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا نو سال سے جاری محاصرہ شدت پسندوں کو فوجی اڈوں کی تعمیر اور ہتھیاروں کی تعمیر سے روکنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

جنگ بندی کے حوالے سے مذاکرات کی رپورٹس کو اس وقت بہت ہوا ملی جب حماس کے رہنما خالد مشعل کی ترک اور سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں دیکھنے میں آئیں۔

نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں اس رپورٹ پر بھی تبصرہ کیا ہے جس کے مطابق حماس کے ساتھ معاہدے کی صورت میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات معمول کی سطح پر آجائینگے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ "جہاں تک ترکی کے ساتھ تعلقات کی بات ہے تو ابھی تک کسی معاہدے کا نام ونشان نہیں ہے۔"

اسرائیل نے حال ہی میں ترکی پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی شہریوں پر حملے کرنے والے حماس ممبران کو پناہ دے رکھی ہے۔