.

ترکی میں مخلوط حکومت کی تشکیل کی کوشش ناکام

قبل ازوقت انتخابات نوشتہ دیوار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیراعظم احمد دائود اوگلو نے ملک میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ملک میں قبل از وقت انتخابات کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ترک وزیراعظم نے نئی مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے تیسری بڑی سیاسی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ کے قائد دولت بھجلی سے ملاقات کی اور انہیں مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر دولت بھجلی نے مخلوط حکومت کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا۔ اس سے قبل دائود اوگلو ری پبلیکن پارٹی جو جون میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں "آق" کے بعد دوسری بڑی پارٹی ابھر کر سامنے آئی تھی سے بھی مخلوط حکومت کے لیے مذاکرات کیے تھے مگر ری پبلیکن پارٹی نے بھی مخلوط حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا تھا۔

خیال رہے کہ جون 2015ء کو ہوئے پارلیمانی انتخابات میں اگرچہ پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ نشستیں تو صدر رجب طیب ایردوآن کی جماعت "انصاف وترقی" [آق] نے حاصل کی تھیں مگر وہ حکومت بنانے کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرپائے تھے۔ سنہ 2002ء کے بعد "ٓآق" پارٹی کو یہ پہلا بڑا دھچکا لگا ہے جس میں اس نے پچھلے تین انتخابات کی نسبت کم سیٹیں حاصل کیں۔ حکومت سازی کے لیے اسے دوسری جماعتوں کی معاونت درکار ہے مگر سیاسی مخالفین بھی صدر ایردوان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔

انقرہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم احمد دائود اوگلو نے کہا کہ "مسٹر دولت بھجلی نے مجھے صاف جواب دیا ہے کہ وہ "آق" کے ساتھ مل کر قومی حکومت کی تشکیل سے معذرت کرتے ہیں"۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے مخلوط حکومت کی تشکیل کی سرتوڑ کوشش کی ہے مگر ہم اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

قبل ازیں جمعرات کو کئی ہفتوں تک پیپلز ری پبلیکن پارٹی کی قیادت سے مذاکرات میں ناکامی کے بعد وزیراعظم دائود اوگلو کا کہنا تھا ہ اب دوبارہ انتخابات نوشتہ دیوار بن چکے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتیں حکومت کی تشکیل میں معاونت کو تیار نہیں ہیں۔ قبل ازوقت انتخابات کی تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا گیا تاہم مبصرین کے خیال میں قبل از وقت انتخابات 22 نومبر کو ہوسکتے ہیں۔

ترکی میں حکومت کی تشکیل میں ناکامی اور قبل از وقت انتخابات کا اعلان ملک میں اقتصادی شعبے کے لیے بھی مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ اس اعلان سے ترک لیرہ کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 1.16 فی صد کم کردی ہے اور عالمی منڈی میں 2,865 لیرے ایک ڈالر کے برابر آگئے ہیں۔