.

داعش سے نجات پانے والی شامی دوشیزہ 'ملکہ حسن' منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی شہر الرقہ میں دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" کے ظہور کے بعد وہاں سے امریکا فرار ہونے والی ایک 22 سالہ دوشیزہ کو سال 2015ء کے لیے امریکا میں عرب دنیا کی 'ملکہ حسن' مُنتخب کرلیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "مس عرب یوایس اے" کے لیے 19 دو شیزائوں کے درمیان مقابلہ امریکی ریاست "ایریزونا" کے Mount Airy کیسینو میں 15 اگست بروز ہفتہ منعقد ہوا۔ امریکا میں "مِس عرب" کے مقابلے کی دوڑ میں شامل انیس دوشیزائوں میں پانچ کا تعلق مراکش، چار شام، چار مصر، دو فلسطین، دو لبنان، ایک اردن اور ایک لیبیا سے تھی۔

ملکہ حسن منتخب ہونے والی شامی دو شیزہ 22 سالہ فابیولا ابراہیم کی پیدائش امریکی شہر نیویارک میں بروکلین کے مقام پر اس وقت ہوئی جب اس کے والد ڈاکٹر فاروق الابراہیم اور والدہ ڈاکٹر رانیا عجیلی امریکا میں مقیم تھے۔ ملکہ حسن کے والد امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں استاد رہنے کے ساتھ ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے مگر سنہ 2003ء میں کینسرکے باعث وہ امریکا ہی میں انتقال کرگئے۔ ڈاکٹر فاروق کی وفات کے بعد ان کی بیوہ رانیا جو پیشے کے اعتبار سے ایک ڈینٹل ڈاکٹر تھیں اور بیٹی فابیولا شام منتقل ہوگئیں۔ یوں فابیولا کی زیادہ تر پرورش شام کے حلب اور الرقہ شہروں میں ہوئی۔ فابیولا نے اپنے پڑوسیوں اور دوستوں سے فرانسیسی اور آرمینی زبانیں بھی سیکھیں اور 14 سال کی عمر میں اس نے آرمینائی باسکٹ بال کی حلب میں قائم ٹیم کے ساتھ باسکٹ بال بھی کھیلا۔

شام میں سنہ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کے سر اٹھانے کے بعد جب الرقہ میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے آثار نمودار ہونا شروع ہوئے تو فابیولا نے اپنی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں محسوس کیں اور وہ چپکے سے امریکا روانہ ہوگئی۔ موت سے بچنا ہی اس کے لیے ایک بڑی بات تھی مگر امریکا کے سفر نے اس کی قسمت کو چار چاند لگا دیے اور وہ عرب دنیا کی رواں سال کی "مس عرب" قرار پائی ہیں۔

فابیولا نے پہلی بار ملکہ حسن کے مقابلے میں سنہ 2010ء میں حصہ لیا۔ پہلا مقابلہ جس میں اس نے شرکت کی بھی امریکی ریاست ایریزونا میں منعقد ہوا اور اس کے تمام اخراجات مصری نژاد کاروباری شخصیت اشر الجمل نے اٹھائے۔ پچھلے سال اس مقابلے میں ایک لبنانی دوشیزہ غنوہ زین الدین نے کامیابی حاصل کی۔ پچھلے سال کے مقابلہ حسن کے فنڈنگ بھی اشرف الجمل نے کی۔ غنوہ کی پیدائش کینیڈا کی ہے تاہم اس کا خاندان کئی سال قبل متحدہ عرب امارات میں منتقل ہوگیا تھا۔ سنہ2008ء میں وہ امریکی ریاست نیفاڈا نقل مکانی کرگئے جہاں زین الدین نے یونیورسٹی میں فارمیسی اور مواصلات کے شعبے میں کورسز بھی کیے۔