.

عرب لیگ کا لیبیا کو سیاسی و فوجی امداد مہیا کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی اپیل پر اس کو فوجی اور سیاسی امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لیبی وزیرخارجہ محمد الدایری نے قاہرہ میں منگل کے روز منعقدہ تنظیم کے غیر معمولی اجلاس میں رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ لیبیا کی فوج کو مسلح کریں تاکہ وہ ملک میں داعش کے بڑھتے ہوئے خطرے کا مقابلہ کرسکے۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ان کی حکومت کے پاس داعش سے لڑنے کے لیے ہتھیار نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو عراق اور شام میں امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کے اپنے خلاف فضائی حملوں کے بعد اب لیبیا کا رُخ کررہے ہیں اور وہاں اپنے ٹھکانے بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نبیل العربی نے اجلاس میں لیبی وزیرخارجہ کے مطالبے کی توثیق کرتے ہوئے رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ فوری اور مؤثر انداز میں اس کا جواب دیں۔انھوں نے لیبیا میں امن وامان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''عرب قیادت نے لیبیا کی خود مختاری کو برقرار رکھنے اور اس کے تحفظ کے لیے سیاسی اور عسکری امداد مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لیبیا کی قومی فوج کی حمایت کرے گی''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے لیبیا پر 2011ء سے اسلحہ درآمد کرنے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔اس سال مارچ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس پابندی کی تجدید کی تھی لیکن ایک قرارداد کے تحت پابندیوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کو یہ اجازت دی تھی کہ وہ لیبی حکومت کی جانب سے اسلحے کی درآمد کے لیے کسی بھی درخواست کا جائزہ لے۔

لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے لیکن اس حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں اور یہ حکومت ماضی میں متعدد مرتبہ اقوام متحدہ سے اسلحے کی درآمد پر عاید پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

لیبی وزیرخارجہ نے عرب لیگ کے اجلاس میں یہ بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ثالثی میں لیبیا میں قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات داعش کے خلاف جنگ کے لیے حکومت کو اسلحہ مہیا کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے چاہئیں۔

لیبی حکومت نے گذشتہ ہفتے کے روز عرب ممالک سے وسطی شہر سرت میں دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کی درخواست کی تھی اور ان پر زوردیا تھا کہ وہ داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں۔

داعش کے جنگجو جون سے لیبیا کے معزول صدر مقتول معمر قذافی کے آبائی شہر سرت پر قبضے کے لیے مقامی فورسز سے لڑرہے ہیں۔گذشتہ ہفتے کے روز داعش کے جنگجوؤں نے مقامی ملیشیا کے بارہ ارکان کے سرقلم کرکے ان کی لاشیں شہر کے مشرقی حصے میں مختلف چوراہوں پر لٹکا دی تھیں۔ان کی اس سفاکیت کی متعدد مغربی ممالک نے مذمت کی ہے۔