.

لیبی وزیر اعظم نے استعفی کی پیشکش واپس لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے بین الاقوامی طور پر تسلیم کردہ وزیر اعظم عبداللہ الثنی کے ایک ترجمان نے پیر کے روز ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ عبداللہ الثنی نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش واپس لے لی ہے کیونکہ اس پر عمل درآمد سے تنازعات میں گھرے ملک کے اندر افراتفری میں اضافہ ہونے کا اندیشہ تھا۔

حاتم القریبی نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وزیر اعظم نے اپنا استعفی پیش نہیں کیا تھا، وہ مستعفی ہونے کی پیشکش واپس لے چکے ہیں۔

"حکومت روزمرہ کے امور معمول کے مطابق ادا کر رہی ہے۔ عبداللہ الثنی پارلیمنٹ میں آ کر ممکنہ سوالات کے جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔'

یاد رہے کہ عبداللہ الثنی نے گذشتہ منگل کو ایک براہ راست نشری تقریر میں مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد لیبیا کے عام شہریوں نے ان پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔'

تاہم ان کی تقریر کے باوجود یہ بات واضح نہیں تھی کہ عبداللہ الثنی استعفی دینے کے لئے عملا تیار تھے یا نہیں۔

ٹی وی رپورٹس میں الثنی کی حکومت پر بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور اپنے زیر نگین علاقوں میں ناگفتہ بہ امن و امان کے الزامات عاید کئے جا رہے ہیں۔

'اپنے نشری خطاب میں الثنی کا کہنا تھا کہ اگر اقتدار چھوڑنا ہی مسئلے کا حل ہے تو، میں ابھی اس کا اعلان کرتا ہوں۔ پارلیمنٹ کو میرا استعفی اتوار کو پیش کر دیا جائے گا۔' حکومتی ترجمان کے مطابق الثنی کی گفتگو مشروط تھی۔

القریبی کے مطابق وزیر اعظم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر عوام چاہیں گے تو وہ عہدہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کو کوئی استعفی پیش نہیں کیا گیا۔

لیبیا کے مطلق العنان حکمران معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد ملک بحران کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہاں دو حریف پارلیمان اور حکومتیں قائم ہیں۔ نیز متعدد مسلح ملیشیاوں کے جنگجو ملکی تیل کی دولت پر قبضہ کے لئے باہم دست وگریباں ہیں۔

عبداللہ الثنی کی حکومت مصری سرحد کے قریب واقع مشرقی بندرگاہ تبروک سے چلائی جا رہی ہے کیونکہ دارلحکومت طرابلس پر اسلامی پسندوں اور ملیشاوں کا ایک اتحاد قابض ہے۔