.

ہسپانیہ میں یہودی موسیقار کا کنسرٹ منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہسپانیہ میں غرب الہند موسیقی میلہ کی انتظامیہ کی جانب سے امریکا سے تعلق رکھنے والے یہودی گلوکار کا کنسرٹ منسوخ کرنے پر مقامی طور پر سرگرم یہودی جتھوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہودی فنکار کا فلسطینی ریاست سے متعلق اپنا نقطہ نظر واضح کرنے میں ناکامی کنسرٹ کی منسوخی کا باعث بنی۔

ماسیسویاہ کو ہفتے کے روز مشرقی سپین کے علاقے ویلنشیا میں غرب الہند موسیقی میلہ میں راک اور ہیپ ہاپ طرز گائیکی میں یہودی رنگ بھرنے کا مظاہرہ کرنا تھا۔ ماسیسویاہ نے ویلنشیا کنسرٹ منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے تنازع پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔

تاہم فلسطین کے بارے میں اسرائیلی پالیسی کے خلاف بطور احتجاج صہیونی ریاست پر پابندیوں اور بائیکاٹ کی مہم چلانے والوں کے دباو پر انتظامیہ نے ماسیسویاہ کی میلہ میں شرکت منسوخ کر دی۔

میلہ کہ انتظامیہ نے یہودی فنکار سے متعدد بار مطالبہ کیا تھا کہ وہ فلسطینیوں پر اپنے ہی ملک میں مسلط کی جانے والی جنگ کے بارے میں دوٹوک بیان جاری کریں، لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث ان کا کنسرٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہسپانیہ کی یہودی تنظیموں نے کنسرٹ منسوخی کے فیصلے کو 'بردلانہ، غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک کا مظہر' قرار دیا ہے۔ تنظیموں کے ایک کے مطابق یہودی فنکار کو مذہبی تعلق کی بنیاد پر ایک سیاسی موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا جبکہ میلہ میں شرکت کرنے والے دیگر فنکاروں کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا۔

ورلڈ جیوش کانگریس کے صدر رونالڈ لاڈر نے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ہسپانوی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ کنسرٹ منسوخی کے فیصلے کے ذمہ داروں کے خلاف اقدام اٹھائیں۔

ویلنشیا میں اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم چلانے والے رضاکاروں نے ماسیسویاہ کا کنسرٹ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مہم چلانے والوں کے بقول ماسیسویاہ 'اسرائیل کا عاشق' ہے، اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ فلسطین-اسرائیل تنازع سے متعلق اپنا نقطہ نظر واضح کرے۔