.

امریکا: مصر کے نئے انسداد دہشت گردی قانون کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے مصر میں حال میں نافذ کیے گئے انسداد دہشت گردی کے نئے قانون کی مذمت کی ہے اور اس کے ملک میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ اتوار کو اس متنازعہ قانون کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت حکومت کو مشتبہ افراد کی نگرانی کے لیے مزید اختیارات حاصل ہوگئے ہیں اور ناقدین کے بہ قول اس قانون کے تحت حکومت مخالفین اور ناقدین کو بھی نشانہ بنایا جاسکے گا۔ انسانی حقوق کے کارکنان صدر عبدالفتاح السیسی پر جبر واستبداد کی حامل حکومت قائم کرنے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ مصر کے نئے انسداد دہشت گردی قانون کے تحت بعض اقدامات سے انسانی حقوق اور بنیادی شہری آزادیوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں''۔

البتہ جان کربی نے امریکا کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کے ساتھ کھڑا ہے۔تاہم انھوں نے وزیرخارجہ جان کیری کے اس بیان کو دہُرایا ہے کہ انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق کے تحفظ میں توازن قائم کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے ایک ایسی طویل المیعاد جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں حکام اورعوام کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا ہو اور حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والے سیاسی عمل میں شرکت کے ذریعے اپنی خیالات کا اظہار کرسکیں''۔

مصر نے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) سے وابستہ دہشت گردوں کی جانب سے فوج اور پولیس پر حملوں کے بعد نیا قانون نافذ کیا ہے۔سیناء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجوؤں کے حملوں میں سیکڑوں فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

مصری حکومت نے برطرف صدر کے حامیوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے بعد امریکا اور مصر کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں سرد مہری آ گئی تھی اور امریکا نے مصر کو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت سالانہ دی جانے والی فوجی امداد بھی رو ک لی تھی لیکن کئی مہینوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اب برف پگھلی ہے اور دوطرفہ تعلقات بہتر ہونے کے بعد مارچ میں امریکا نے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی سالانہ امداد بحال کردی تھی۔