.

'غرب اردن اسرائیل کا حصہ ہے' امریکی صدارتی امیدوار کا شوشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں اسرائیل نواز سیاست دان تھوک میں پائے جاتے ہیں جو آئے روز متنازع بیانات کے ذریعے امریکا میں موجود صہیونی لابی کی ہمدردیاں سمینٹنے کی بھرپورکو کوشش کرتے ہیں۔ ان دنوں امریکا میں آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے مہمات جاری ہیں اور ہر اُمیدوار اپنا ووٹ بنک بڑھانے کے لیے متنازع بیانات دے رہا ہے۔ اُنہی میں ایک 'صاحب' مائیک ہوکابی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ موصوف نے تمام عالمی قراردادوں اور بین الاقوامی موقف سے انحراف کرتے ہوئے فلسطین میں دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے کو اسرائیل کا "اٹوٹ انگ" قرار دیا ہے۔

مائیک ہوکابی نے یہ بیان دیا بھی تو فلسطین میں آکردیا جس کی وجہ سے لاکھوں فلسطینیوں کو دکھ پہنچا۔ ہوکابی گذشتہ روز غرب اردن میں قائم یہودی کالونی "شیلو" میں بیت المقدس کی جانب جا رہے تھے جہاں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "غرب اردن اسرائیل کا حصہ ہے"۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت کا اصولی موقف بھی غرب اردن کے بارے میں متنازع علاقے کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا غرب اردن میں اسرائیل کی یہودی بستیوں کی تعمیر کی مخالفت کرتا آ رہا ہے۔

امریکی ری پبلیکن پارٹی کا اسرائیل کے حوالے سے موقف ڈیموکریٹس کی نسبت زیادہ لچک اور نرمی پرمبنی رہا ہے۔ مائیک ہوکابی کا تعلق بھی ری پبلکن پارٹی سے ہے۔ گذشتہ روز انہوں نے غرب اردن میں "شیلو" یہودی کالونی کادورہ کیا اور اسے توراتی تواریخ کا اہم مقام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ اسرائیل کے دورے پرآئیں تو پورے اسرائیل کاوزٹ کرنا چاہیے۔ اس میں "یہودا اور السامرہ" کی یہودی کھنڈارت اور ان پربنائی گئی بستیاں بھی شامل ہیں۔ تورات میں یہ غرب اردن کے دو نام ہیں۔