.

وسطی یمن میں باغیوں کی سپلائی لائن کاٹنے کے لیے کارپٹ بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی یمن کی حوثی باغیوں سے آزادی کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں جاری عالمی اتحادی ممالک نے وسطی یمن میں بھی باغیوں کی سپلائی لائن کاٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز وسطی یمن کے کئی اضلاع میں حوثیوں اور سابق صدر علی صالح کے وفاداروں کے مراکز پربمباری کی جاتی رہی۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی صنعاء میں ارحب اور تعز میں کرش کے مقامات پرحوثی باغیوں کے مراکزپربمباری کرکے انہیں تباہ کردیا گیا۔ لحج اور تعز گورنریوں کے درمیان باغیوں کی سپلائی لائن کاٹنے اور البیضاء اور مآرب میں حوثیوں کے اسلحہ کے ذخائر کوتباہ کرنے کے لیے فضائی حملے کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق صنعاء کے بین لاقوامی ہوائی اڈے اور شمالی دارالحکومت میں واقع الدیلمی فضائی اڈے پرتین نئے حملے کیے گئے۔ الدیلمی فوجی اڈے پر گذشتہ مارچ سے جاری لڑائی کے دوران کئی بار بمباری کی جا چکی ہے۔

درایں اثناء مزاحمتی کارکنوں نے وسطی یمن میں ملٹری اسپتال کے قریب واقع "ثعبات" کے مقام پر قبضہ کرلیا ہے۔ مزاحمتی کارکن ثعبات کے بعد اب الجحملیہ کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں۔ ان علاقوں میں لڑای کے دوران کم سے کم 15 حوثی باغیوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب حوثی اور علی صالح کی وفادار ملیشیا اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں کےباعث سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ بوکھلاہٹ کے نتیجے میں باغیوں نے شہری آبادی پر ہاون راکٹوں اور مارٹر گولوں سے حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں کئی شہری جاں بحق اورزخمی ہوگئے۔

مشرقی تعز میں الحوبان کے مقام پرحوثی باغیوں نے مزاحمتی ملیشیا کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس کے جواب میں اتحادی طیاروں نے ان کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔ ذرائع کےمطابق اتحادی طیاروں نے عمران گورنری میں حوثیوں کےایک اجلاس کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں سترہ سرکردہ حوثی جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔ جنوب مغربی مآرب گورنری میں اتحادی طیاروں اور مزاحمتی ملیشیا کے حملوں میں چودہ جنگجوئوں کی ہلاکت کی اطلاع ہیں۔ بمباری کے دوران باغیوں کے زیراستعمال کئی فوجی گاڑیاں اور اسلحہ بھی تباہ کردیا گیا۔