.

لبنانی شیعہ اور شامی علوی #ایران کے خلاف سراپا احتجاج

#تہران پر #شام کی آبادیاتی تقسیم کی سازش کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب ملکوں لبنان اور شام میں ایرانی حکومت کی بے جا مداخلت کے خلاف اب #ایران کے اپنے ہم مسلک لبنانی شیعہ اور شام کے علوی قبیلے کے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں اور ایران مخالف مہمات میں یں متحد ہونے لگے ہیں۔ حال ہی میں #شام اور لبنان کے صحافیوں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے ایک مشترکہ گروپ تشکیل دیا ہے۔ "لبنانی شیعہ اور شامی علوی" کے نام سے قائم کردہ گروپ نے شام کے علاقے زبدانی میں شامی اپوزیشن اور ایرانی حکام کی موجودگی میں ہونے والے مذاکرات پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ اس گروپ نے اپنے شامی علوی قبیلے کے لوگوں اور لبنان کے اہل تشیع کے دستخط حاصل کرنا بھی شروع کیے ہیں۔ ایرانی مداخلت کے خلاف سراپا احتجاج گروپ کا کہنا ہےکہ زبدانی میں ایرانی مداخلت "سرکشی" کے مترادف ہے۔ انہوں نے ایران پر شام کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر آبادی کی تقسیم کا بھی الزام عاید کیا۔

مُہم کی حمایت میں ایک یاداشت پر دستخط کرنے والے بعض علوی اور شیعہ کارکنوں نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے تاہم ان سب کا موقف ایران کی مداخلت کے خلاف ایک ہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران شام کے مخصوص علاقوں میں شیعہ اور سُنی مسالک کے لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ ایرانی فارمولے پرعمل درآمد کی صورت میں صدیوں سے آباد شہریوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا۔ شام میں علوی قبیلے کو آباد کاری کا یہ فارمولہ قبول نہیں ہے۔

ایران کے خلاف احتجاج میں سرگرم شیعہ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کی نقل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی ملی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے زبدانی میں شیعہ آباد کاری کے لیے جو مذاکرات کیے ان کے رد عمل کو نظرانداز کیا گیا۔ ایرانی اپنے مخصوص سیاسی مفادات کےحصول کی خاطر لبنان اور شام میں شہریوں کی نقل مکانی اورآبادی کار چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں بڑی تعداد میں شامی شہریوں کو اپنے آبائی شہروں میں سکونت کے بنیادی حق سےمحروم کردیا جائے گا۔

شیعہ صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے #بیروت۔ اللاذقیہ، کے نام سے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹویٹر" پر ایک ٹیگ بھی بنایا ہے جس میں شام اور #لبنان میں ایران کی بڑھتی مداخلت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ ایرانی حکام کے ان متنازعہ بیانات کی مذمت کی جا رہی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تہران کا اثرو رسوخ بیروت، #دمشق اور #بغداد سے ہوتے ہوئے اب #صنعاء میں بھی پہنچ چکا ہے۔

بیان میں لبنان، شام اور یمن کے ایران نواز کٹھ پتلی گروپوں کے کرادر کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایرانی ایجنٹ اپنے سیاسی مفادات کے لیے اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔ لبنان اور شام کے شیعہ علوی قبیلے کا یہ گروپ ایران نوازوں سے اعلان برات کرتا ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے شام میں مخصوص انداز میں شیعہ مسلک کے لوگوں کی آباد کاری سے ملک میں ایک نئے انداز میں خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے۔ شام اور لبنان کے عوام فرقہ واریت کی بنیاد پر آبادیاتی تقسیم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو یہ ایک نئی جنگ شروع کرنے کا موجب بن سکتا ہے جس کی ذمہ داری ایران اور اس کے کٹھ پتلی گروپوں پر عاید ہوگی۔