.

تہران میں برطانوی سفارت خانہ 4 سال بعد دوبارہ کھل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے قریبا چار سال کے بعد ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنے ملک کا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔

فلپ ہیمنڈ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران بھی آج ہی لندن میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ سنہ 2011ء کے بعد ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔انھوں نے بیان میں بتایا ہے کہ پہلے پہل لندن اور تہران میں ناظم الامور سفارت خانوں کا نظام چلائیں گے اور سفیروں کو کچھ عرصے کے بعد بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ فلپ ہمینڈ 1979 ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں انقلاب کے بعد دوسرے برطانوی وزیرخارجہ ہیں جو تہران کے دورے پر آئے ہیں۔ان سے پہلے 2003ء میں سابق برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے ایران کا دورہ کیا تھا۔

ان کے ہمراہ برطانوی کاروباری شخصیات کا ایک مختصر گروپ بھی تہران آیا ہے۔ان میں رائل ڈچ شیل ،توانائی اور کان کنی کے شعبے میں خدمات مہیا کرنے والی کمپنی امیک فوسٹر ویلر اور اسکاٹ لینڈ کی انڈسٹریل انجنئیرنگ فرم ویر گروپ کے نمائندے شامل ہیں۔

برطانیہ نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی میں ویانا میں جوہری تنازعے پر سمجھوتا طے پانے کے بعد تہران میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانیہ نے گذشتہ سال بھی تہران میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا لیکن ایران کے ساتھ بعض امور پر اختلافات کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا تھا۔

یادرہے کہ 29 نومبر 2011ء کو ایرانی مظاہرین نے برطانوی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا تھا۔انھوں نے برطانوی ملکہ اور بادشاہوں کی تصاویر پھاڑ دی تھیں ،ایک کار کو آگ لگا دی تھی اور الیکٹرانک آلات چوری کرکے ساتھ لے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارت خانہ مکمل طور پر بند کردیا تھا اور لندن سے ایرانی سفارت کاروں کو بے دخل کردیا تھا۔