.

عدن: پولیٹیکل سیکیورٹی ہیڈکواٹر بم دھماکے سے ڈھیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی یمن کے مرکزی شہر عدن میں پولیٹیکل سیکیورٹی کے ہیڈ کواٹر کو ایک زوردار بم دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ العربیہ نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ہیڈکواٹر کی عمارت کے باہر نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے کیا گیا جس کے نتیجے میں سیکیورٹی کمپلیکس زمین بوس ہو گیا۔

'العربیہ' کے مطابق ہفتے کے روز اتحادی طیاروں نے البیضاء، مآرب، شمالی لحج میں کرش، مکیراس، عقبہ الثرہ میں بمباری کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مزاحمتی قوتوں نے زمینی کارروائی کرتے ہوئے اہم مقامات سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اتحادی ممالک کے اپاچی جنگی ہیلی کاپٹر حوثیوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ یمن کے ایک عسکری ذریعے نے بتایا کہ تہامہ صوبے میں باغیوں کی سرکوبی کے لیے تین بریگیڈ تشکیل دیے گئے ہیں۔

اتحادی طیاروں نے المخاء بندرگاہ میں بھی باغیوں کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے جب کہ اِب شہر میں باغیوں اور آئینی حکومت کی حامی ملیشیا کے درمیان خونریز جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ تعز میں حوثی باغیوں نے شہری آبادی پرحملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد بچوں اور خواتین سمیت کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

صنعاء کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں جاری"سنہری تیر آپریشن" کے تحت الدیلمی فوجی اڈے پر حوثی باغیوں کے مراکز کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوجی اڈے پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی اور آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے ہیں۔ صنعاء کے آس پاس کے علاقوں میں بھی حوثیوں اور سابق صدر علی صالح کے وفاداروں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیےگئے۔

عربی اخبار"الشرق الاوسط" کی رپورٹ کے مطابق تہامہ صوبے میں فوج کی نگرانی میں حوثی اور علی صالح کے وفادار باغیوں سے لڑنے کے لیے تین بریگیڈ فوج تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو آئندہ دنوں میں اپنے آپریشن کا آغاز کرے گی۔ یہ فوج آئینی حکومت کی بحالی کے لیے سرگرم فوج کاحصہ ہو گی جو براہ راست صدر عبد ربہ منصور ھادی کو جوابدہ ہو گی۔