.

یمن: میزائل حملے میں القاعدہ کے چار اور جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مشرقی ساحلی شہر المکلا میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے نے ایک اور میزائل حملہ کیا ہے جس میں القاعدہ کے چار مشتبہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک یمنی عہدے دار نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو ایک کار میں سوار تھے اور وہ المکلا کے ہوائی اڈے کے رن وے کے نزدیک سفر کررہے تھے۔اس دوران ایک امریکی ڈرون نے ان کی کار پر میزائل داغا ہے جس سے وہ موقع پر ہی مارے گئے ہیں۔

القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپریل میں یمنی سکیورٹی فورسز کی پسپائی کے بعد سے المکلا پر قبضہ کررکھا ہے۔اس دوران ان پر اس شہر میں متعدد ڈرون حملے کیے جاچکے ہیں۔امریکا کی سنٹرل انٹیلی ایجنسی (سی آئی اے) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہی یمن میں القاعدہ کے ٹھکانوں پر بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں سے میزائل حملے کررہی ہے لیکن امریکا نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور نہ کبھی ذمے داری قبول کی ہے۔

المکلا میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اس ڈرون حملے سے ایک روز قبل وسطی صوبے مآرب میں بھی اسی طرح کے ایک اور حملے میں القاعدہ کے تین جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے جون میں یہ تسلیم کیا تھا کہ اس کا لیڈر ناصر الوحیشی اپریل میں ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔اسی حملے میں القاعدہ کے دو اور سینیر لیڈر بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس جنگجو گروپ نے پہلے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔

گذشتہ سال ستمبر میں حوثی شیعہ باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔اس دوران القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے یمن کے صحرائی صوبے حضرموت کے دارالحکومت المکلا اور بعض دوسرے جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا۔اب ان کی ان شہروں میں حوثی باغیوں یا سرکاری سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں نے ہفتے کے روز جنوبی شہر عدن میں خفیہ پولیس کے ہیڈکوارٹرز کو بم دھماکے میں اڑا دیا تھا۔