.

'یو این' ایلچی کی مسقط میں یمنی باغی رہنماؤں سے ملاقات

ولد الشیخ یمن میں جنگ بندی کے لیے نئے فریم ورک پر بات چیت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے امن ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد آج اتوار کو سلطنت آف اومان کے دارالحکومت مسقط پہنچے ہیں جہاں وہ یمن میں جاری جنگ کی روک تھام کے لیے طے پائے نئے فریم ورک پر حوثی باغیوں اور منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔

یمنی حکومت کے ایک ذریعے نے "العربیہ" کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب ولد الشیخ صدر عبد ربہ منصور ھادی کی جانب سے جنگ بندی کے لیے طے کردہ شرائط حوثی باغیوں کے سامنے پیش کریں گے۔ گذشتہ روز صدر ھادی اور اقوام متحدہ کے مندوب کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں طویل ملاقات ہوئی تھی جس میں یمن میں جاری بغاوت کو ختم کرنے کے لیے چند نئی شرائط پیش کی گئی ہیں۔

یمنی حکومت کی جانب سے تیار کردہ نئے امن فارمولے میں باغیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر فی الفور عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور ہتھیار ڈال دیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اور صدر ھادی کے درمیان ہوئی ملاقات میں یمن کی تازہ صورت حال بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔

صدر عبد ربہ منصور ھادی نے "یو این" مندوب کو بتایا کہ یمن میں باغیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حوثی باغی اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا عدن اور دوسرے صوبوں میں معصوم شہریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صدر ھادی نے باغیوں پر زور دیا کہ وہ طاقت کی زبان استعمال کرنے کے بجائے ہتھیار پھینک دیں اور قوم کے اجتماعی ضمیر کے فیصلے کو قبول کریں۔ علاقائی ممالک کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے کے تحت یمن میں دیرپا اور مستحکم قومی حکومت کی تشکیل میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں۔