.

لیبیا :داعش نے چار افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) سے وابستہ جنگجوؤں نے وسطی شہر سرت میں چار افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔ان میں ایک مقتول داعش کے حریف گروپ کا رکن ہے اور اس کی لاش نمائش کے لیے چوراہے میں رکھ دی گئی ہے۔

داعش کی جانب سے انٹرنیٹ پر سوموار کو جاری کردہ ویڈیو میں ایک مسلح جنگجو نارنجی رنگ کا سوٹ پہنے شخص کو گولیاں مار رہا ہے۔اس کے داعش نے اس کی لاش ایک چوراہے میں دوسروں کو خبردار کرنے کے لیے رکھ دی تھی۔

اس مقتول شخص کی شناخت دارالحکومت طرابلس میں قابض حکومت کے تحت مسلح گروپ فجر لیبیا کے ایک مبینہ جاسوس کے طور پر کی گئی ہے۔سرت کے مکینوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے کل چار افراد کو فائرنگ کر کے قتل کیا ہے۔ان تمام نے نارنجی رنگ کے سوٹ پہنے ہوئے تھے۔تاہم انھیں ان مقتولین کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے اسی ماہ کے دوران لیبیا کے سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کے آبائی شہر پر اپنی گرفت مضبوط بنا لی ہے۔انھوں نے وہاں اپنے مخالف سلفی گروپ اور سرت کے مسلح مکینوں کی بغاوت کو کچل دیا ہے۔

داعش کے جنگجو لیبیا کے مشرقی شہر درنہ پر بھی دوبارہ قبضے کی کوشش کررہے ہیں۔وہاں ایک مخالف گروپ نے شہر مکینوں کی مدد سے جون میں داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا۔مسلح شہریوں نے اتوار کے روز داعش کا ایک حملہ پسپا کردیا تھا اور سوموار کو انھوں نے دوبارہ کوئی حملہ نہیں کیا تھا۔

لیبیا میں اس وقت دو متوازی حکومتیں کام کررہی ہیں۔طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کی حکومت ہے لیکن اس حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں مگر ان دونوں حکومتوں کے زیر قبضہ بہت تھوڑے علاقے اور شہر ہیں جبکہ داعش اور دوسرے گروپوں نے ملک کے مختلف شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنی اپنی عمل داری قائم کررکھی ہے۔