.

دہشت گردی کے خلاف چومُکھی لڑائی لڑ رہے ہیں: حبیب الصید

تیونسی وزر اعظم کا 'العربیہ' کو انٹرویو، ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے وزیر اعظم الحبیب الصید نے کہا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ ہنگامی حالت کے نفاذ سے بنیادی شہری آزدیاں متاثر نہیں ہوتی ہیں۔

تیونسی وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ ڈٓٹ نیٹ" کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ تیونس سنہ 2012ء سے دہشت گردی کے خلاف ہمہ جہت جنگ لڑ رہا ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا پوری دنیا کوسامنا ہے۔ تیونس بھی اپنے حصے کی جنگ لڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم الصید نے عوام سے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ہرممکن تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل، صبر آزما اور قربانیوں سے بھرپور ہوگی۔ قوم کے بچے،بوڑھے، مرد عورت ہرایک کو بیداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مادی اور منعوی مدد فراہم کرنا ہوگی۔ جب تک معاشرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ نہیں دے گااس وقت تک یہ جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ تنہا فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں تیونسی وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے اور ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے لیے مسلح افواج کو جدید جنگی آلات سے لیس کرنا ناگزیرہے۔ فوج اس جنگ میں تیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ نے 306 ملین دینار کا اضافی بجٹ منظورکیا ہے۔

ہر ملک دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے تیونسی وزیراعظم حبیب الصید نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تیونسی عوام نے غیرمعمولی قربانیاں دی ہیں۔ لازوال قربانیوں کا ثمر ہے کہ آج ہم اس ناسور کے خلاف جنگ جیت رہے ہیں۔ جب ان سے دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا ان واقعات کی وجہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ "سوسہ" اور "بارود" کے مقامات پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں 39 افراد کی ہلاکت کے بعد ہم نے ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی تحقیقات کی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی نہیں تاہم کہیں کہیں غلطیاں ضرور سرزد ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے موقع ملا ہے۔

سوسہ اور بارود میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہم نے سیکیورٹی اداروں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی ہیں۔ ان کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہیں نئے آلات اور مواصلاتی میشنری سے لیس کیا گیا ہے۔ اہم نوعیت کی تنصیبات کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ سیاحتی مقامات میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے بھی غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد شہروں میں اپنے ٹھکانے نہیں بناتے بلکہ وہ چھپتے پھرتے رہتے ہیں، مگر وہ پہاڑوں اور دشوار گذار علاقوں کو اپنے ٹھکانوں کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔ فوج اور ریاست کے تمام ادارے دہشت گردوں کا نشانہ ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں تیونسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا شکار صرف تیونس نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ امریکا، برطانیہ، فرانس اور اسپین جیسے بڑے ممالک بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔

ہنگامی حالت کا نفاذ محدود مدت کے لیے

تیونس کے وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے کے لیے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیرمعمولی حالات میں ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ "سوسہ" کے مقام پر 39 سیاحوں کی دہشت گردی کے حملے میں ہلاکت کے بعد ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ لازمی ہو گیا تھا۔

سوسہ اور بارود میں حملوں کے بعد ملک میں دہشت گردی کے مزید خطرات بھی پیدا ہو گئے تھے۔ اس لیے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کیا ہے۔ ہنگامی حالت جلد ہی ختم کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالت کے نفاذ سے بنیادی شہری آزادیاں متاثر نہیں ہوتی ہیں۔

مذہب سے نہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملک بھر کی 80 مساجد کی بندش اور لوگوں کے اس پراحتجاج سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں تیونسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ صرف دہشت گردی کے خلاف ہے۔"سوسہ" میں دہشت گردی کے واقعے کےبعد مساجد اور بعض دوسرے اداروں کی مانیٹرنگ ناگزیر ہوگئی تھی۔ ہم نے کسی مسجد کو بند نہیں کیا۔ صرف کچھ مساجد کی نگرانی شروع کی ہے کہ آیا وہاں کون آتا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مساجد کے آئمہ اور خطباء کو ایک ضابطہ اخلاق اور ضابطہ قانون کا پابند بنایا ہے کہ تاکہ اللہ کےگھروں کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی تعلیم دینے کے اڈے نہ بنایا جاسکے۔ حبیب الصید نے کہا کہ ہماری لڑائی دین کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ جنگ صرف دہشت گردی کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ اللہ کے گھروں کو کسی صورت میں بند نہیں کرسکتے ہیں۔

تیونسی وزیر اعظم نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے دعوے کی تردید کی کہ تیونس کی جیلوں میں ڈالے گئے افراد کو اذیتیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کوئی ایک آدھ واقعہ انفرادی نوعیت کا ایسا ہوا ہو ورنہ زیرحراست تمام افراد کو بنیادی حقوق حاصل ہیں اور کسی کو تعذیب وتشدد کا نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے۔

لیبیا کے ساتھ دیوار فاصل کا قیام

دہشت گردوں کی سرحد پار آمد ورفت روکنے کے لیے پڑوسی ملک لیبیا کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے تیونسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے ہمیں ان وسائل اور ذرائع کا استعمال کرنا ہے جن کی مدد سے ہم یہ جنگ جیت سکیں۔ اگرچہ اندرون ملک دیوار کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ لیبیا نے بھی دیوار تعمیر کرنے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ مگر ہم نے انہیں یہ سمجھایا ہے کہ یہ دیوار محض ایک رکاوٹ کا کام دے گی۔ دیوار کے ساتھ ساتھ ایک خندق کھود کر اس میں پانی چھوڑا جائے گا تاکہ دہشت گردوں کی آمد ورفت کو روکا جا سکے۔

ایک سوال کے جواب میں تیونسی وزیر اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے لیبیا کی سرحد سے ملک میں داخل ہونے والے دہشت گردوں اور اسلحہ کی اسملگروں کی کارروائیوں کو ناکام بنایا ہے۔ جس کے بعد ہمیں سرحد پر دیوار لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ ہم نے دیوار کی تعمیر کے ساتھ ساتھ لیبیا کی سرحد پر تین اضافی گذرگاہیں بھی قائم کی ہیں تاکہ قانونی طریقے سے شہریوں کی آمد ورفت میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو۔ ہم صرف غیر قانونی آمد ورفت بالخصوص دہشت گردوں کو روکنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیونس میں شہریوں کا شام ، عراق اور لیبیا میں دہشت گرد گروپوں میں شامل ہونا نہایت خطرناک ہے مگر اس رحجان میں پڑوسی ملکوں کی دہشت گردی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ شدت پسند سادہ لوح شہریوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے نام پر اپنی صفوں میں شامل کرتے ہیں اور پھرانہیں مذموم مقاصد کی تکمیل کے استعمال کرتے ہیں۔