.

سعودیہ میں 19 سال قبل دھماکوں کا ملزم بیروت سے گرفتار

احمد ابراہیم المغسل کی گرفتاری پر 5 ملین امریکی ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی انٹیلی جنس حکام ایک حیرت انگیز آپریشن کے ذریعے انیس سال سے مطلوب ایک عالمی دہشت گرد احمد ابراہیم المغسل کو لبنان کے دارالحکومت بیروت سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ملزم کو تفتیش کے لیے سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عالمی شہرت یافتہ دہشت گرد احمد ابراہیم المغسل دہشت گردی کی کارروائیوں کی پاداش میں امریکا اور سعودی عرب کو یکساں طور پر مطلوب تھا۔ اس کے سرکی قیمت پچاس لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی تھی۔

پین عرب روزنامہ "الشرق الاوسط" نے اپنی ایک رپورٹ میں انتہائی مطلوب دہشت گرد ابراہیم المغسل کی گرفتاری کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ المغسل پچھلے انیس سال سے سعودی عرب اور امریکا کی ہٹ لسٹ پر تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے بار بار کوششیں کی گئی تھیں۔

اس نے سعودی عرب کے شہر الظہران میں بارود سے بھرے ایک ٹرک کے ذریعے 25 جون سنہ 1996ء کو ابراج الخبر کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جس کے نتیجے میں کم سے کم 19 امریکی فوجی ہلاک اور 372 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کی اس واردات کا ماسٹر مائینڈ ابراہیم المغسل تھا اور اسے القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الظواہری کے ساتھ مطلوب ترین افراد میں شامل کیا گیا تھا۔

گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر انعام

اخباری رپورٹ کے مطابق 26 جون 1967ء کو سعودی عرب کے شہر قطیف میں پیدا ہونے والے احمد ابراہیم المغسل نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی اور دہشت گردی کی کئی وارداتوں کی منصوبہ کرنے کے ساتھ متعدد کارروائیوں میں بہ نفس نفیس حصہ بھی لیا جن میں سعودی شہریوں سمیت دسیوں غیرملکی ہلاک ہو گئے تھے۔

المغسل کی گرفتاری سعودی انٹیلی جنس اداروں کی غیرمعمولی کامیابی سمجھی جا رہی ہے کیونکہ امریکی خفیہ ادارہ "ایف بی آئی" پچھلے دو عشروں سے المغسل کی تلاش میں تھا اور اس کے سرکی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ سنہ 2002ء میں امریکی صدر جارج بش کی منظوری کے تحت القاعدہ کے جن 22 اشتہاریوں کی فہرست جاری کی گئی تھی ان میں اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری کے بعد ابراہیم المغسل، ابراہیم صالح الیعقوب اور عبدالکریم حسین الناصر بھی سرفہرست تھے۔ یہ چاروں سعودی عرب میں الخبر ٹاور کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے میں ملوث قرار دیے گئے تھے۔

المغسل کی گرفتاری میں لبنانی انٹیلی جنس حکام کا کتنا کردار ہے اس کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم اخباری ذرائع کا کہنا ہے کہ بیروت میں کی گئی اس کارروائی میں لبنان کے متعلقہ سیکیورٹی حکام سے تعاون لیا گیا تھا۔

ایران میں روپوشی

احمد ابراہیم المغسل کئی دوسرے دہشت گردوں کے ہمراہ کئی سال تک ایران میں روپوش رہا۔ امریکا اور سعودی عرب کی جانب سے متعدد مرتبہ تہران سے ملزمان کی حوالگی کا مطالبہ کیا مگرایران کی جانب سے اس سلسلے میں کسی قسم کا تعاون نہیں کیا گیا۔ المغسل نے پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنا حلیہ بھی تبدیل کر لیا تھا۔ ایران پر دبائو بڑھنے کے بعد المغسل چپکے سے بیروت منتقل ہو گیا تاہم سعودی عرب کے خفیہ ادارے اس کے تعاقب میں لگے رہے۔ اس دوران اس کی موت کی اطلاعات بھی آئیں۔ اس کے ساتھیوں میں جعر شویحات بھی شامل تھا جو شام میں گرفتاری کے تین بعد دوران حراست پر اسرارحالت میں وفات پا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے صابن سے خود کشی کی تھی۔

ریاض نے 1997ء میں تہران سے المغسل اور اس کے ساتھیوں علی سعید بن علی الحوری، ابراہیم صالح محمد الیعقوب اور عبدالکریم حسین محمد الناصر کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ مجموعی طور پر ابراج الخبر کو دھماکے سے اڑانے کی سازش کے الزام میں 13 سعودی دہشت گرد شامل تھے۔ ان میں سے ایک کا تعلق لبنان سے تھا جس پر "حزب اللہ الحجاز" کے نام سے عسکری تنظیم تشکیل دینے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں الخبر ٹاور میں دہشت گردی میں ملوث ملزمان کی ایران میں رپوشی سے تہران کی پالیسی پر کئی سوالیہ نشان مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچہ تہران کی جانب سے ابراج الخبر پر حملے سے لا تعلقی کا اظہار کیا تھا اور ملزمان کی ایران میں موجودگی کی بھی تردید کی تھی تاہم دہشت گردوں کے ایران میں قیام کرنے کے ناقابل تردید شواہد موجود تھے۔