.

سعودی فوج یمنی سرحد پار کر کے #صعدہ میں داخل ہو گئی

پیش قدمی کا مقصد #حوثیوں کی مملکت پر راکٹ باری رکوانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مسلح فوج جنوبی ریجن جازان کے ساتھ ملنے والی یمنی سرحد پار کر کے صعدہ گورنری داخل ہو گئی ہے تاکہ حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی علاقے پر راکٹ باری کے سلسلے کو رکوایا جا سکے۔

دوسری جانب عرب اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے ساحلی دفاعی کیمپ اور تعز کے شہر المخا میں 'المحجر' کے علاقے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں گولا بارود کے بڑے گودام اور فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں۔

درایں اثنا باغیوں کے خلاف سرگرم عوامی مزاحمتی جنگجوؤں نے تعز گورنری میں منحرف صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی ملیشیا کے 20 جنگجو ہلاک کر دیئے۔

یمنی میں مقامی حکومتوں کے وزیر عبدالرقیب سیف فتح نے کہا ہے کہ حوثی اور صالح ملیشیاؤں نے تعز کو باقاعدہ منصوبے کے تحت تاراج کیا ہے۔ اس میں رہائشی عمارتوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد تعز کو 'آفت زدہ' علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بچوں، خواتین سمیت دسیوں افراد تعز پر حوثی اور صالح ملیشیا کی مسلسل گولا باری کی زد میں آ کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہی انجمنوں نے واضح کیا ہے کہ باغی ملیشیا نے انقلاب ہسپتال اور بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایمبولینس سروسز کا عملہ بھی باغیوں کی دست برد سے محفوظ نہیں ہے جبکہ متعدد مکانات کو ڈائنامائٹ لگا کر تباہ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور پیش رفت میں مزاحمت کار اور یمن کی قومی فوج مارب کے علاقے میں مسلسل نئی کمک ارسال کر رہے ہیں کیونکہ دارلحکومت کا کنڑول باغیوں سے لینے کے لئے اس مقام پر قدم جمانا نہایت ضروری ہے۔