.

لبنان میں پرتشدد مظاہروں کے پس پردہ ایران کا ہاتھ؟

مظاہرین کے جسموں پر سیف الذولفقار اور 313 عدد کے ٹیٹو بنے ہوئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حالیہ ایام میں لبنان کے صدر مقام بیروت میں حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں پیش آنے والے واقعات نے تصویر کا ایک دوسرا رخ پیش کیا ہے۔ مظاہرین انداز واطوار، لباس، جسم پر ٹیٹو، مخصوص علامتوں اور سلوگن کے استعمال سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ بیروت میں ہونے والا احتجاج ایران نواز فرقہ پرستوں کی منظم سازش تھی جس کا مقصد ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بیروت میں سرکاری اور نجی املاک کی توڑ پھوڑ، سیکیورٹی اہلکاروں پر پٹرول بم حملوں میں ملوث افراد اور آگ لگانے کے واقعات میں ملوث کچھ لوگوں کی تصاویر شائع کی ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ لوگ ایران کی آشیر باد سے لبنان میں فرقہ واریت کی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پرتشدد مظاہروں کے دوران کئی نوجوانوں کو اپنے جسم پر حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شبیہ، 313 کی علامت کا ٹیٹو اور گلے میں حضرت علی کی جانب منسوب کی جانے والی "ذالفقار" نامی تلوار کی نشانی لٹکائے دیکھا گیا۔ بعض نے اپنے بازوں پر"یا علی مدد" کے الفاظ بھی لکھ رکھے ہیں۔ یہ تمام علامتیں، سلوگن اور ٹیٹو شیعہ مذہب کے شرپسندوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس باب میں مزید تحقیق کی ہے۔ ایران میں 313 کا عدد نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اہل تشیع اسے ایک مقدس اور بابرکت عدد خیال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں حال ہی میں تیار ہونے والے ایک میزائل کا نام بھی "فاتح 313" رکھا گیا ہے۔ یہ میزائل 500 کلومیٹر کی دوری تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں "قاہر 313" نامی ایک جیٹ طیارے کی نمائش کی گئی تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی تک یہ جنگی جہاز مکمل نہیں کیا۔ اس کا خیالی ڈھانچہ دکھایا گیا ہے۔

اہل تشیع کے ہاں "313" کی اہمیت کے کئی اور پہلو بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اپنی جو ٹیم تشکیل دیں گے ان کی تعداد بھی تین سو تیرہ ہو گی۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد بھی 313 ہی تھی۔ حضرت طالوت کے حامیوں کی تعداد بھی 313 بتائی جاتی ہے۔

ایران میں پاسداران انقلاب کا ترجمان ایک جریدہ "ماہانہ 313" کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ لبنان میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں اور ان میں شریک لوگوں کے جسموں پر بنے ٹیٹو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ مظاہرے ایک سازش ہیں جن کے پس پردہ ایران کا ہاتھ بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ اتنی بڑی تعداد میں 313 کے عدد کا ٹیٹو بنائے نوجوان مظاہریں میں کیا کر رہے ہیں؟