.

کویت: گیس فیلڈ سے متعلق رپورٹس پر ایرانی ناظم الامور کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں وزارت خارجہ نے ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے اور ان سے ایران کی جانب سے ایک بروشر کی اشاعت سے متعلق رپورٹس پر احتجاج کیا ہے۔اس بروشر میں کویت کی بحری حدود میں واقع ایک متنازعہ گیس فیلڈ میں سرمایہ کاری کے مواقع کی تشہیر کی گئی ہے۔

کویت کی سرکاری خبررساں ایجنسی کونا نے وزارت خارجہ کے ایک بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ الدرہ آف شور فیلڈ کی حیثیت کے بارے میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔یہ گیس فیلڈ کویت ،سعودی عرب اور ایران کے درمیان بحری سرحدی علاقے میں واقع ہے۔

یہ آف شور گیس فیلڈ 1960ء کی دہائی سے ایران اور کویت کے درمیان تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔ایران نے سنہ 2012ء میں کہا تھا کہ اس نے اس گیس فیلڈ کے اپنے زیر قبضہ حصے کو ترقی دینے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔یہ حصہ عریش فیلڈ کہلاتا ہے۔

کونا کے مطابق وزارت خارجہ نے اتوار کو ایرانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو ان رپورٹس کے منظرعام پر آنے کے بعد طلب کیا تھاجن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی نیشنل آئیل کمپنی نے ایک پبلیکیشن جاری کی ہے جس میں ایران میں الدرہ فیلڈ کے حصوں سمیت تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کی اطلاع دی گئی ہے۔

بیان کے مطابق ''وزارت خارجہ علاقائی اور عالمی سطح پر تعلقات اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ریاست کویت کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کررہی ہے''۔

ایک کویتی اخبار میں منگل کو شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ایران نے الدرہ فیلڈ کے دو توسیعی منصوبوں کی ترقی کے لیے غیرملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے لیکن کویت اس پر معترض ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس گیس فیلڈ پر کسی بھی کام سے پہلے اس کی حد بندی ہونی چاہیے۔

ان رپورٹس کے منظرعام پر آنے کے بعد کویتی پارلیمان کے اسپیکر نے وزارت خارجہ سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی تھی۔واضح رہے کہ سنہ 2013ء میں سعودی عرب اور کویت نے الدرہ فیلڈ کو ترقی دینے کے لیے ایک منصوبے کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اس سے حاصل ہونے والی گیس کے حصے کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔امریکا کی توانائی اطلاعاتی انتظامیہ (ای آئی اے) کے تخمینے کے مطابق الدرہ فیلڈ میں گیس کے ذخائر قریباً ساٹھ ٹریلین مکعب فٹ ہیں۔