.

یو این ایلچی لیبیا میں متحدہ حکومت کے قیام کے لیے پُراعتماد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار ملک کی دونوں پارلیمان ستمبر کے وسط تک قومی اتحاد کی حکومت کے قیام پر متفق ہوجائیں گی۔

اقوام متحدہ گذشتہ کئی ماہ سے لیبیا کے متحارب دھڑوں کو ایک متحدہ کابینہ کی تشکیل پر آمادہ کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ ملک میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے گذشتہ چار سال سے جاری خونریزی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

برنارڈینو لیون نے فرانس 24 چینل سے ایک انٹرویو میں کہا ہے:''مجھے امید ہے کہ 10 ستمبر کے آس پاس ہم حتمی سمجھوتے کی پوزیشن میں ہوں گے''۔وہ جمعرات سے مراکش میں لیبیا کے متحارب دھڑوں کے درمیان قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل سے متعلق معاہدے پر مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے والے ہیں۔البتہ دارالحکومت طرابلس میں قائم پارلیمان ابھی تک اس مجوزہ معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کرتی چلی آرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگرچہ تمام فریقوں کے لیے بہت سے سوالات جواب طلب ہیں لیکن ڈیل کے جتنا اب ہم قریب پہنچ چکے ہیں، پہلے کبھی نہیں پہنچے تھے۔اب یہ لیبیا کے لیے ایک المیہ ہی ہوگا کہ طرفین ایک دوسرے کے اتنا قریب پہنچنے کے باوجود معاہدے کو حتمی شکل نہ دے سکیں''۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا لیبیا میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے کوئی بین الاقوامی مداخلت ہوسکتی ہے تو مسٹر لیون کا کہنا تھا کہ ''ان کی ترجیح طرفین میں ایک سیاسی معاہدہ طے کرانا ہے۔دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف لیبیا کا مرکزی ہتھیار اس کا اتحاد ہوگا''۔

اقوام متحدہ نے لیبیا میں جاری بحران کے خاتمے کی غرض سے پہلے ایک سال کی مدت کے لیے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔اس کے تحت وزیراعظم کی سربراہی میں ایک وزارتی کونسل قائم کی جائے گی۔ان کے دو نائبین ہوں گے اور انھیں انتظامی اختیارات حاصل ہوں گے۔

لیبیا کے شمالی شہر طبرق میں قائم کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور منتخب ایوان نمائندگان کے وفد نے ابتدائی سمجھوتے پر گذشتہ ماہ دستخط کردیے تھے لیکن طرابلس حکومت کا وفد مذاکرات سے اٹھ کر آ گیا تھا۔طرابلس میں اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت قائم حکومت اور طبرق میں قائم حکومت کے وزیراعظم عبداللہ الثنی کو سخت گیروں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے۔