.

"داعش" کی رگوں میں وسطی ایشیا کا خون دوڑنے لگا

تنظیم کی افرادی قوت پوری کرنے کے لیے وسطی ایشیا میں بھرتیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام اور #عراق میں خود ساختہ خلافت کی دعوے دار شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "#داعش" کو افرادی قوت کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مگر تنظیم نے اس قلت کو دور کرنے کے لیے اب وسطی ایشیائی ممالک کے جنگجوئوں پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں #قازقستان، #ازبکستان، #تاجکستان، #ترکمانستان اور #کرغیزستان سے بڑی تعداد میں جنگجو دولت اسلامی میں بھرتی ہو کر شام اور عراق جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق وسطی ایشیائی ریاستوں سے جنگجو بھرتی کرنے کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ دولت اسلامی نے مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں کو اپنی طرف موڑنے کی کوششوں کے بعد وسطی ایشیائی ممالک کے مسلمانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ یہاں کی غربت، بے روزگای، بدامنی اور حکومتوں کے مظالم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں کے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے لیے کامیاب مہم چلائی گئی ہے۔ وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کئی جنگجو داعش کے اہم تنظیمی اور عسکری عہدوں پر فائز ہیں جو اس خطے کے نوجوانوں کے لیے گہری کشش رکھتے ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکڑوں ازبک انتہا پسند مشرقی ایشیا کی ریاستوں کازکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان سے ہوتے ہوئے شام اور عراق پہنچ چکے ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک کے جنگجو افرادی قوت کی قلت کا سامنا کرنے والی داعش کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں کیونکہ داعش کو #امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے حملوں میں غیرمعمولی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والے جنگجو اس کمی کو خاطرخواہ پورا کررہے ہیں۔

وسطی ایشیائی ممالک کی غربت اور بے روزگاری بھی دولت اسلامی کی طرف متوجہ ہونے کا اہم سبب ہے۔ داعش مسلمان نوجوانوں کو بہتر معیار زندگی کا جھانسہ دینے کے ساتھ ساتھ ان میں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا بھی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

داعش کے زیرانتظام جنگجوئوں کے متعدد گروپ صرف ایشیائی ممالک کے باشندوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے الگ الگ نام ہیں جن میں "النصرہ محاذ"، "التوحید والجہاد" اور امام بخاری بریگیڈ جیسے نام شامل ہیں۔ امام بخاری بریگیڈ کا قیام 2013ء میں عمل میں لایا گیا جس میں ازبک جنگجوئوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ "التوحید والجہاد" القاعدہ کی وفادار تنظیم ہے جس کا قیام دسمبر 2014ء میں عمل میں لایا گیا۔