.

اسرائیل میں ایرانی سفارت خانے کی 'مہم' کا راز فاش

پُراسرار بینر کامیڈی "فلم جوہری مرچیں" کی تشہیر کا حصہ نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں ایرانی سفارت خانے کے قیام کے لیے پچھلے چند ماہ کے دوران سامنے آنے والی مہمات کے پس پردہ فن کاروں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں کا حوالہ دیا جا رہا تھا مگر اب معلوم ہوا ہے کہ یہ مہم دراصل اسرائیل میں تیار ہونے والی ایک مزاحیہ فلم "جوہری مرچیں" کی تشہیر کا حصہ ہے، کوئی سنجیدہ عوامی مطالبہ نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کامیڈی فلم "جوہری مرچیں" 10 ستمبر کو ریلیز ہو گی۔ تہران میں ایک کثیر المنزلہ عمارت پر "اسرائیل میں جلد ایرانی سفارت خانہ کھلے گا" کی عبارت پر مشتمل بینر اسی فلم کی انتظامیہ کی جانب سے لہرایا گیا ہے۔ وسیع وعریض بینر پر ایران اور اسرائیل کے پرچم بھی بنائے گئے ہیں اورنیچے ایک فرضی فون نمبر بھی درج کیا گیا ہے۔

قبل ازیں العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اسرائیل میں اسرائیلی سفارت خانے کے قیام کی مہم کی خبر بریک کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ایران میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے مندوبین اور سماجی کارکن تہران اور تل ابیب کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی مہم چلا رہے ہیں۔

اسرائیل میں ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے حوالے سے پروڈیوسر ڈرور شائول کی تیار کردہ فلم "اٹامک مرچیں" میں مزاحیہ پیرائے میں ایرانی جوہری پروگرام کو پیش کیا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق تل ابیب میں ایرانی سفارت خانے کے قیام کے اعلان پر مبنی بینر اسی فلم کی جانب سے لہرایا گیا ہے۔

فلم میں ایران اور اسرائیل کی دو فرضی لڑکیوں کی ملاقات کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ جو رہتی الگ الگ شہروں میں ہیں مگر ان کے شہروں میں جوہری تنصیبات پائی جاتی ہیں۔ وہ دونوں آپس میں بات چیت میں نئی نسل کو جوہری ہتھیاروں سے محفوظ رکھنے کے لیے گفتگو کرتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ ملک کو کس طرح جوہری تنازع سے نکالا جائے۔

فلم کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ کامیڈی فلم کا مقصد صرف لوگوں کو تفریح مہیا کرنا ہے۔ یہ فلم مکمل طورپر پر امن مقاصد کے لیے بنائی گئی ہے جس کا کوئی فوجی مقصد ہرگز نہیں ہے۔ اسرائیل کے ایک دوسرے فلمی پروڈیوسر افراہام بیرشی کا کہنا ہے کہ "کامیڈی فلم کا مقصد صرف تفریح مہیا کرنا ہے۔ یہ فلم عسکری موشگافیوں اور افراط و تفریط سے مبرا ہے۔"