.

سعودی عرب میں 25 سال بعد ماں بیٹی کا ملاپ

مصالحتی مساعی سے میاں بیوی میں ناراضی ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب میں عائلی مسائل کے حل میں مدد فراہم کرنے والے ادارے کے توسط سے پچیس سے سال بچھڑی ماں اور اس کی بیٹی کو آپس میں ملا دیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپنی ماں سے ملاقات سے پچیس سال سے محروم لڑکی کے ایک قریبی عزیز نے #الاحساء شہر میں "فیملی ڈویلپمنٹ سینٹر" میں رابطہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ادارے نے ناراض میاں بیوی کو آپس میں ملا دیا اور باپ کے پاس موجود بیٹی کو پچیس سال بعد اپنی والدہ سے ملاقات کا موقع ملا۔ اڑھائی عشرے گذرنے کے بعد والدہ اور بیٹی دونوں ایک دوسرے کو پہچاننے سے بھی قاصر تھیں مگر اصلاح سینٹر کی مصالحتی مساعی کے نتیجے میں ان کے ملاپ نے جذباتی مناظر پیدا کردیے تھے۔ بیٹی کو دیکھتے ہی مامتا کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہوگئے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں فیملی کونسلنگ سینٹر میں خاندانوں، قرابت داروں اور دیگر شہریوں کےدرمیان پائے جانے والے اختلافات کو خوش اسلوبی سے دور کرنے کی بھرپور مدد فراہم کی جاتی ہے۔ فیملی مرکز اصلاح کا کہنا ہے کہ ایک ماہ میں 227370 کیسز نمٹائے اور ناراض لوگوں کو آپس میں ملانے میں ان کی مدد کی گئی۔ حال ہی میں الاحساء شہر میں "مجھے معاف کردو" کے عنوان سے ایک 10 روزہ مہم بھی چلائی گئی تھی جس میں الاحساء اور اس کے مضافات کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے باہمی تنازعات کے خاتمے کے لیے سرکردہ شخصیات اور علماء کی مدد سے ان کے اختلافات دور کیے گئے۔

فیملی اصلاح سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد الحلیبی کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ پچھلے دس سال سے کام کررہا ہے۔ ان دس برسوں کےدوران ان کے پاس 63 فی صد کیسز فیملی نوعیت کے آئے جنہیں احسن طریقے سے نمٹا دیا گیا۔