قطب شمالی کے راستے شامی پناہ گزینوں کی یورپ منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں پچھلے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث لاکھوں لوگ پڑوسی ملکوں میں پناہ لینے پرمجبور ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی پناہ گزین نہ صرف سمندر کے راستے یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں بلکہ روس اور شمالی اوقیانوس کے ممالک سے ہوتے ہوئے قطب شمالی کے برف زاروں سے گزر کر یورپ پہنچ رہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کرکینیس پولیس چیف ہانس مولیباکن کا کہنا ہے کہ رواں سال شام سے فرار ہونے والے 150 افراد روس اور ناروے سے گزر کردوسرے یورپی ملکوں میں پہنچے ہیں۔ قطب شمالی کے برفیلے اور سنگلاخ پہاڑوں کے دشوار گذار راستوں سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں میں بیشتر کا تعلق شام سے ہے تاہم کچھ افراد دوسرے ملکوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق سنہ 2014ء میں قطب شمالی بالخصوص سابقہ سوویت یونین اور شمالی اوقیانوس"نیٹو" ملکوں سے 10ا فراد برفیلے پہاڑ عبور کرکے یورپ پہنچے تھے۔ سردیوں میں ان علاقوں کا درجہ حراست منفی 15 درجے سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔

پولیس چیف کاکہنا ہے کہ قطب شمالی کو عبور کرنے والے بیشتر افراد کو روس میں پہلے سے مقیم غیرملکی نقل مکانی کی سہولت مہیاکرتے ہیں۔ کچھ شامی پناہ گزین ہوائی جہازوں کی مدد سے ماسکو پہنچے جیاں سے شمالی مغربی روسی جزیرے مورمانسک سے ہوتے ہوئے کیرکینیس پہنچے ہیں۔

پولیس چیف مولیباکن کا کہنا ہے کہ روس کے دور افتادہ علاقوں میں قانون کی بالا دستی نہ ہونے سے پناہ گزینوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ وہ موٹرسائیکلوں کے ذریعے قطب شمالی کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران پناہ گزینوں کو لے جانے والے 20 موٹرسائیکل ضبط کیے ہیں اور ان کے مالکان کو 717 ڈالر جرمانہ کیا گیا۔

ناروے حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران قطب شمالی اور دوسرے راستوں سے آنے والے 1000شامی باشندوں نے پناہ کی درخواست دی۔ اسی عرصے میں مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے تین لاکھ افراد نے بحر متوسط سے گزر کر یورپ پہنچنے کی کوشش کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی پناہ گزین کے جمع کردہ اعدادو شمار کے مطابق یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے 2500ا فراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں