ملائشیا :وزیراعظم مخالف مظاہروں کے منتظمین طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملائشیا میں پولیس نے وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف مظاہروں کے منتظمین کو بدھ کے روز بیانات قلم بند کرانے کے لیے طلب کرلیا ہے۔

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور اور دوسرے شہروں میں ہفتے اور اتوار کو وزیراعظم کی مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور مظاہرین نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جس پر حکومت نے دھمکی دی تھی کہ ان مظاہروں کے منتظمین کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ملک کی غیرسرکاری تنظیموں (این جی اوز) پر مشتمل اتحاد بیرش کی سربراہ ماریہ چین عبداللہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے بدھ کے روز متعدد احتجاجی لیڈروں کو طلب کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ سراسر وقت کا ضیاع ہو گا۔وہ ہمیں ہراساں کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے''۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں گذشتہ ماہ ملائشیا سے متعلق ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور انھیں حکومت مخالفین کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2013ء کے آغاز کے بعد وزیراعظم کے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں قریباً ستر کروڑ ڈالرز جمع کرائے جاچکے ہیں۔

ملائشین وزیراعظم نے ابتدا میں اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کردیا تھا لیکن اس کے بعد ان کی کابینہ کے بعض وزراء نے رقوم کی ان کے بنک کھاتے میں منتقلی کا اعتراف کیا تھا۔البتہ ان کو ''سیاسی عطیات'' قرار دیا تھا جو ان کے بہ قول مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے نامعلوم ذرائع نے بھیجی تھیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔

نجیب رزاق نے اس معاملے کی تحقیقات کا عمل بھی روک دیا تھا،انھوں نےاٹارنی جنرل کو برطرف کردیا تھا اور دوسرے عہدے داروں کو اس کی تحقیقات کی ذمے داری سونپی ہے۔

اختتام ہفتہ پر کوالالمپور اور دوسرے شہروں میں ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں اور وزیراعظم نجیب رزاق سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا تھا۔مظاہرین حکومت سے وسیع تر اصلاحات کا بھی مطالبہ کررہے تھے۔ بیرش کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز دو لاکھ سے زیادہ افراد نے کوالالمپور میں احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا جبکہ پولیس نے شرکاء کی تعداد صرف انتیس ہزار بتائی تھی۔

نائب وزیراعظم اور وزیرداخلہ زاہد حمیدی نے ہفتے کے روز مظاہروں کے منتظمین کو خبردار کیا تھا کہ ان کے خلاف بغاوت ،غیر قانونی اجتماع اور دوسرے قوانین کے تحت مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سوموار کو ایک بیان میں وزیرداخلہ زاہد حمیدی کے اس بیان کی مذمت کی تھی۔

ملائشین میڈیا میں منگل کو ایک اور وزیر کا یہ بیان شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ بیرش کو مظاہروں کے بعد کچرا اٹھانے کا 65 ہزار رنگٹ (16 ہزار ڈالرز) کا بل بھیجا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں بیرش کے زیراہتمام ریلیوں میں تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہے تھے لیکن ہفتے کے روز مظاہرہ پُرامن رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں