روس کا شام میں فوجی مداخلت کا فیصلہ، امریکا خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی حکومت نے شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" اور دیگر حکومت مخالفت شدت پسندوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا نے ماسکو کے ممکنہ اقدام پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اسرائیل کے ایک کثیرالاشاعت عبرانی روزنامہ "یدیعوت احرونوت" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ روسی فوج جلد ہی شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کرے گی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق آئندہ چند ایام میں روسی طیارے شام پہنچا دیے جائیں گے۔ روسی جنگی طیارے شامی فوج کے جنگی ہیلی کاپٹروں اور طیاروں کے ساتھ مل کر داعش اور حکومت مخالف دوسرے گروپوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

اسرائیلی اخبار نے مغربی سفارت کاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام میں روس کی عملی مداخلت شروع ہونے والی نہیں بلکہ عملا شروع ہوچکی ہے۔ شام میں روسی فوج کو دمشق کے قریب ایک فوجی اڈہ دے دیا ہے جہاں وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

آئندہ چند ہفتوں کے دوران ماسکو سے مزید فوجی اور جنگی سازو سامان دمشق کے اس فوجی اڈے منتقل کردیا جائے گا۔ فوجی اڈے پر روانگی کے لیے فوجی ماہرین، لاجسٹک شعبے اور شہری دفاع کے اہلکار اور جنگی طیاروں کے پائلٹ شامل ہوں گے۔

اسرائیلی اخبارات کے مطابق روس کا شام میں داعش اور دوسرے گروپوں کے خلاف جنگ میں کودنا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ روس کی مداخلت سے جنگ کا پانسہ پلٹ سکتا ہے اور اس کے مشرق وسطیٰ پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے تاہم روس کا اسرائیل یا خطے کے کسی دوسرے خود مختار ملک کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روس کا علانیہ ہدف دولت اسلامی کے خطرے کو کم کرنا اور بشارالاسد کا دفاع کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں