"ضمیر کی قیدی"، امریکی وزارت خارجہ کی تازہ مہم!

صنف نازک کی مظلومیت کے پر چارک فلسطینی مائوں بہنوں کو بھول گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج سے 20 برس پیشتر خواتین کو مردوں کے مساوی سیاسی اور سماجی حقوق دینے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی گئی جو دو عشروں سےتواتر کے ساتھ ہر سال باقاعدگی منعقد کی جاتی ہے۔ امسال یہ کانفرنس 27 ستمبر کو چین کے صدر مقام بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہے جس میں 189 ملکوں کے مندوبین شرکت کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق بیجنگ کانفرنس کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے امریکی محکمہ خارجہ کے زیراہتمام "ضمیر کی قیدی" کے عنوان سے ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کا مقصد دنیا کے مختلف ملکوں اور ظالم حکومتوں کے ہاں قید خواتین کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔ ویسے تو اس مہم میں ویتنام سے لے ایران تک، شام سے لے کر چین تک اور وینز ویلا سے لے کر ایتھوپیا تک پھیلی "ضمیر کی قیدی" خواتین کے حق میں آواز بلند کی جائے گی مگر امریکی وزارت خارجہ کی اس مہم میں بھی 'منافقت' کا عنصر صاف دکھائی دیتا ہے کیونکہ مہم میں اسرائیل زندانوں میں پابند سلاسل دو درجن سے زائد فلسطینی خواتین کا کوئی ذکر نہیں۔ حالانکہ اسرائیل اب تک 15 ہزار سے زائد فلسطینی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کو جیلوں میں ڈال کر ان پر بدترین مظالم ڈھا چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے "نمونے کے طور پر" 20 خواتین کے نام لیے گئے ہیں اور مہم کے دوران روزانہ ان میں سے کسی ایک خاتون کا تذکرہ مہم کے سوشل میڈیا کے صفحات پر پیش کیا جائے گا۔ مہم کا آغاز اقوام متحدہ میں امریکی سفیرہ سمانتھا پور نے کیا۔ جن 20 ضمیر کی قیدیوں کی فہرست مرتب کی گئی ہے ان میں ایتھوپیا، چین، ویت نام، وینز ویلا، مسلم دنیا سے ایران، شام اور مصر کی خواتین شامل کی گئی ہیں۔

مسز سمانھتا پور نے کہا کہ بیس "ضمیر کی قیدیوں" کا گروپ محض نمونے کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے ورنہ اس وقت پوری دنیا میں ہزاروں ضمیر کی قیدی خواتین پانند سلاسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارامقصد دنیا بھر میں سیاسی بنیادوں پر جیلوں میں ڈالی گئی خواتین کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔ ہم ہر روز ایک خاتون قیدی کا نام، تاریخ، جیل اور اس کی گرفتاری کی تفصیلات سوشل میڈیا پر جاری کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ شام میں ضمیر کی قیدی خواتین میں رشا الشور بجی کا نام شامل کیا گیا ہے۔ الشوربجی چار بچوں کی ماں ہیں اور اپنے بچوں سمیت بشارالاسد کی ایک جیل میں پابند سلاسل ہیں۔ ان بیس کے گروپ میں ایران کی بہیرہ ھدیات اور مصر کی سماجی کارکن سناسیف کو شامل کیا گیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ضمیر کی قیدیوں کی حمایت میں مہم کے دوران فلسطینی خواتین کو فراموش کرنے پرانسانی حقوق کی تنظیموں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس مہم میں جنیوا معاہدوں سے باہر ملکوں اور جنگ زدہ علاقوں میں شدت پسند گروپوں کی تحویل میں موجود خواتین کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں