.

ترکی :کرد باغیوں کے بم حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں پولیس کی ایک گاڑی پر بم حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔علاحدگی پسند باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) پر اس بم حملے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوب مشرقی صوبے مردین کے ضلع دارجچیت میں جمعرات کو ایک شاہراہ پر پولیس کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑایا گیا ہے۔حملے میں مقامی پولیس سربراہ سمیت چار افسر ہلاک ہوئے ہیں۔ پولیس کی یہ ٹیم دارجچیت میں ایک اسکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد وہاں جارہی تھی۔

ترکی نے جولائی میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے کے بعد سے کرد باغیوں اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے شروع کررکھے ہیں۔ان فضائی حملوں کے جواب میں علاحدگی پسند کرد جنگجوترک سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔

ترک سکیورٹی فورسز جنوب مشرقی علاقے اور شمالی عراق میں کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہیں۔اس کے ردعمل میں کرد باغیوں کے حملوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے کم سے کم ستر اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد گذشتہ تین عشروں سے جاری شورش پسندی کے جلد خاتمے کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔

کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے رہ نما صلاح الدین دیمریطس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کرد باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت کے پیش نظرنومبر میں عام انتخابات کا انعقاد مشکل ہوگا۔

واضح رہے کہ علاحدگی پسند کرد جماعت پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پراتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف ترک فوج نے بھی مہم بند کردی تھی لیکن اس کے بعد ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔