.

خامنہ ای جوہری ڈیل پر پارلیمان میں رائے شماری کے حامی

سپریم لیڈر کا ایران پر عاید عالمی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ وہ چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر پارلیمان میں رائے شماری کے حامی ہیں۔انھوں نے ایران پر عاید عالمی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعرات کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ایک تقریر میں کہا ہے کہ ''پارلیمان کو جوہری معاہدے کے ایشو پر نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ارکان پارلیمان کو ضرور ہی اس معاہدے کی توثیق کرنی چاہیے یا اس کو مسترد کردینا چاہیے مگراس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنا ان کا کام ہے''۔

انھوں نے صدر (حسن روحانی) کو باور کرا دیا ہے کہ ارکان پارلیمان کو ڈیل کا جائزہ لینے کی اجازت نہ دینا ہمارے بالکل بھی مفاد میں نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران پر عاید پابندیاں ختم نہیں کی جاتی ہیں تو اس وقت تک اس ڈیل کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ ''اگر وہ پابندیوں کو ختم کرنے کے بجائے صرف ختم کرتے ہیں تو پھر ہم بھی اپنی جوہری سرگرمیوں کو معطل ہی کریں گے۔اس کے بعد ہم سینیٹری فیوجز کی تعداد کو تین گنا کردیں گے اور بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کی سطح برقرار رکھیں گے اور ہم اپنی تحقیق وترقی کی سرگرمیوں میں بھی تیزی لائیں گے''۔

واضح رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ جولائی میں ویانا میں طے پائے جوہری معاہدے کی ابھی تک توثیق کی ہے اور نہ ہی اس کو مسترد کیا ہے۔البتہ انھوں نے اس معاہدے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں کی کاوشوں کو سراہا تھا۔

ایرانی صدر حسن روحانی اس جوہری معاہدے پر پارلیمان میں رائے شماری کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس صورت میں اس پر عمل درآمد میں قانونی پیچیدگیاں حائل ہوسکتی ہیں۔

ایرانی پارلیمان کی ایک خصوصی کمیٹی اس معاہدے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس کے بعد اس کو رائے شماری کے لیے پارلیمان میں پیش کردیا جائے گا۔تاہم صدر حسن روحانی کی حکومت نے اس سے متعلق ایوان میں پیش کرنے کے لیے کوئی بل تیار نہیں کیا ہے۔

ادھر امریکی کانگریس میں بھی ایران سے طے شدہ معاہدے کو آیندہ ہفتے رائے شماری کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔صدر براک اوباما کو امید ہے کہ وہ سینیٹ سے اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔البتہ انھیں ایوان نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کے سخت گیر ارکان کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کانگریس سے توثیق کی صورت میں ایران پر عاید امریکی پابندیاں بھی ختم کردی جائیں گی۔