.

روسی فوجی اڈے کے لئے اللاذقیہ سے مہاجرین کی بیدخلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ساحلی اضلاع بالخصوص اللاذقیہ کے اسد نواز عناصر نے دوسرے شہروں سے خانہ جنگی کے باعث نقل مکانی کرکے وہاں آنے والے شہریوں کی بے دخلی کی ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس مہم کا مقصد اللاذقیہ میں روس کو فوجی اڈا بنانے کا موقع فراہم کرنا اور مجوزہ فوجی اڈے کو کسی بھی قسم کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے پناہ گزینوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ساحلی علاقوں نے اسد نواز عناصر کی جانب سے حال ہی میں اللاذقیہ میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی ذمہ داری بھی شامی مہاجرین پر عاید کی گئی تھی۔

شامی رجیم کے مقرب خبر رساں ذرائع کا کہن اہے کہ حال ہی میں اللاذقیہ میں ہونے والے بم دھماکوں کے پس پردہ ان مہاجرین کا ہاتھ ہے جو ان کے بہ قول "نفرت کا ماحول" پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر رساں اداروں کی جانب سے بھی اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ شامی حکومت اور اس کے کٹھ پتلی عناصر اللاذقیہ کو بہر صورت پناہ گزینوں سے خالی کرنے کا عزم کرچکے ہیں۔ انہوں نے پناہ گزینوں کو وہاں سے نکال باہرکرنے کے لیے ان کی طرف سے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے، ان پر بم دھماکے کرنے اور حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزمات کے پیچھے بھی اللاذقیہ کو پناہ گزینوں سے خالی کرنے کا محرک موجود ہے۔

ایک اخباری ذریعے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اللاذقیہ کے مہاجرین پر دبائو اوران کی واپسی کی مہم کا مقصد شہر میں روس کو ایک فوجی اڈے کےقیام کے لیے محفوظ ٹھکانہ مہیا کرنا ہے۔

کئی ہفتے قبل شامی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ اسد رجیم کی جانب سے روسی حکومت کو اللاذقیہ میں کے ساحل پر ایک بڑا فوجی اڈہ بنانے کی اجازت دے دی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا یہ فوجی اڈا صرف خشکی پر ہو گا یا سمندر میں بھی روس کو اپنی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی یا نہیں۔

گذشتہ روز یہ خبر بھی آئی تھی کہ شامی حکومت نے روس کو فوجی اڈے کے لیے جگہ دے دی ہے۔ جلد ہی روسی جنگی طیارے شام میں بشار الاسد کی فوج کے ساتھ مل کر دولت اسلامی "داعش" اور دوسرے شدت پسند گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری میں حصہ لیں گے۔ بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ روسی فوج کو پہلے ہی متعدد مقامات پر غیراعلانیہ اڈے دیے جا چکے ہیں۔

دمشق سے کچھ فاصلے پر واقع ساحلی شہر طرطوس میں بھی ایک فوجی اڈا روس کو دیا جاچکا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طرطوس کا فوجی اڈہ خشکی پرہوگا جس میں رنگروٹوں کی عسکری تربیت اور جاسوسی جیسی سرگرمیاں کی جائیں گی۔