.

سرکاری اداروں میں احتجاج کو طاقت سے کچل دیں گے:لبنانی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں کوڑا کرکٹ اور ملک میں صحت وصفائی کے ناقص انتظامات کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک زیادہ شدت اختیار کرتی جاری ہے۔ دوسری جانب لبنانی وزیر داخلہ نہاد المشنوق نے دھمکی دی ہے کہ ریاستی اداروں میں احتجاج اور دھرنے دینے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ ضرورت پڑی تو قانون حرکت میں آئے گا اور سرکاری اداروں میں ہونے والے دھرنوں کو طاقت کے ذریعے کچل دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نہاد مشنوق نے یہ بات بیروت میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دی مگر ساتھ ہی تسلیم کیا کہ 22 اگست کو بیروت میں ایک احتجاجی دھرنے کو اکھاڑنے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ تاہم انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پولیس کی جانب سے کسی عام شہری کو ایک گولی بھی نہیں ماری گئی۔ پھچلے دس دنوں کے دوران کسی پر گولی نہیں چلائی گئی۔ مظاہرین کو خوف زدہ کرنے کے لیے صرف ہوائی فائرنگ کی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں لببانی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دو سیکیورٹی افسروں کو انضباطی کونسل میں پیش کیا گیا ہے جن پر افراتفری میں مدد کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چھ دوسرے اہلکاروں کو مسلکی فساد برپا کرنے کی پاداش میں جلد ہی سزا دی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں نہاد مشنوق کا کہنا تھا کہ احتجاجی دھرنوں کے دوران 18 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں ایران، شام اور سوڈان کا ایک ایک باشندہ بھی شامل ہے۔ محروسین میں سے چار منشیات کے عادی ہیں۔

لبنانی وزیرداخلہ نے ایک باراپنے اس الزام کو دہرایا کہ ان کے ملک میں ہونے والے تازہ ہنگاموں کے پیچھے ایک عرب ملک کا ہاتھ ہے تاہم انہوں نے اس سازشی ملک کا نام نہیں بتایا۔

خیال رہے لبنان میں چند ہفتے قبل شروع ہونے والے مظاہرے اب بدعنوان حکومت کے خلاف تحریک میں بدلے جا رہے ہیں۔ مظاہرین نے "ہم احتساب چاہتے ہیں" کے عنوان سے نئی مہم شروع کی ہے۔ یہ مہم سوشل میڈیا پربھی تیزی سے مقبول ہوئی ہے۔ اس مہم کے ذریعے حکومت میں شامل کرپٹ عناصر کے احتساب کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔