.

"داعش" نے صنعاء بم حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

بم دھماکوں میں 20 افراد ہلاک، دسیوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام "داعش " نے کل بدھ کے روز یمن کے صدر مقام صنعاء میں دو سلسلہ وار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ صنعاء میں ہونے والے ان بم حملوں میں کم سے کم 20 حوثی جنگجو ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق "داعش" کی جانب سے "ٹویٹر" پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شمالی صنعاء میں بدھ کے روز الجراف کالونی کی مسجد الموید میں دھماکے تنظیم کے دو خود کش بمباروں نے کیے ہیں جن کےنتیجے میں بیس حوثی ہلاک ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ بدھ کی شام شمالی صنعاء میں حوثی شیعہ مسلک کی ایک جامع مسجد میں دو خود کش حملوں کے نتیجے میں مسجد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایک مقامی شہری نے بتایا کہ دھماکے اس وقت ہوئے جب شہری نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ اس دوران پہلے ایک خودکش بمبار نے نمازیوں میں گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک دوسرے جنگجو نے بارود سے بھری کار مسجد سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں مزید حوثی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔