ایران میں فوجی مشقیں، اسٹریٹ وار، میزائل تجربات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام باسیج ملیشیا اور پاپولر موبلائیزیشن یونٹوں کے اشتراک سے تازہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔ ان مشقوں میں بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے ساتھ ساتھ کسی بھی ممکنہ اندرونی خلفشار سے نمٹنے کے لیے سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں لڑائی کے طریقے سکھائے جا رے ہیں۔ تہران میں جاری ان فوجی مشقوں کی نگرانی اور کمان فوج کے اعلیٰ عہدیدار کررہے ہیں اور فوجی مشقوں میں 50 ہزار سے زاید اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

"سحام نیو" کے مطابق باسیج ملیشیا نے فوجی مشقوں کے دوران تہران میں مختلف مقامات پر ہنگامی ناکے لگا کر شہریوں کی اندھا دھند تلاشی لینے اور ان میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کرنے کے تجربات کیے ہیں۔

نیوز ایجنسی نے ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے رکن محمد کوثری کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ کوثری پاسداران انقلاب کے سابق چیف بھی رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی مشقوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ پاسداران انقلاب اور اس کے زیرانتظام سرکاری اور نیم سرکاری ملیشیا رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر زمین پر ہر قسم کی بدنظمی کو فرو کرنے اور کم سے کم وقت میں امن وامان قائم کرنے کی بھرپورصلاحیت سے مالا مال ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ سنہ 2009ء کے متنازع صدارتی انتخابات میں جب اصلاح پسند اپوزیشن نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے "سبز انقلاب" تحریک کا اعلم بلند کیا تو باسیج فورسز اور منتخب نیم سرکاری ملیشیا ہی نے پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر اصلاح پسندوں کے مظاہرے کچل ڈالے تھے۔

بدھ سے وسطی تہران کے "ولایت بوستان" کیمپ میں ہونے والی مشقیں آج [جمعہ] کی شام تک جاری رہیں گی اور توقع ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی اس میں شرکت کریں گے۔اس سے قبل جنگی مشقوں میں شریک اہلکاروں سے ایرانی پاسدارن انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری بھی خطاب کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری افواج خطے میں امن وامان کے قیام کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی "فارس" کے مطابق تہران میں ہونے والی تازہ فوجی مشقوں کو "اقتدار ثاراللہ" کا نام دیا گیا ہے۔ مشقوں کے ترجمان کرنل ناصر شعبانی کا کہنا ہے کہ مشقوں میں 65 ہو اباز بھی حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مشقوں میں "جائرو بلند" طرز کے 10 چھوٹے طیاروں کو بھی استعمال میں لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چھاتہ بردار 20 جہاز، "کائیٹ" جہاز اور "ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر بھی حصہ لے رہے ہیں۔ مشقوں میں فضاء سے فضاء میں اور فضاء سے زمین پر حملوں کےعلاوہ طیاروں کی ہنگامی لینڈنگ اوربہ یک وقت فضائی وزمینی آپریشن کی تربیت دی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں