سابق ایرانی وزراء پر شادی بیاہ پر سونے کے سکے بانٹنے کا الزام

'ضیعفوں کی حکومت میں بد عنوانی کا راج'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کے سابق صدر سادہ مزاج محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ملک کے قومی خزانے کو بے پناہ نقصان پہنچانے اور بدعنوانی کے ارتکاب کے الزامات پہلے بھی منظرعام پر آتے رہے ہیں مگر حال ہی میں ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ صدر نژاد کی کابینہ کے وزراء شادی بیاہ اور خوشی کے دیگر مواقع پر مہمانوں میں سونے کے سکے تقسیم کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں بنکوں اور سناروں کے ہاں سونے کے سکے بنائے جاتے ہیں۔ انہی میں ایک "سکہ بہار آزادی" کے نام سے مشہور ہے جو اپنی مالیت کے اعتبار سے تین اقسام مکمل سکہ، نصف سکہ اور چوتھائی سکہ کی شکل میں موجود ہیں۔ چونکہ ایران میں خواتین کے حق مہر کے لیے سونے کا حساب رکھا جاتا ہے اور عموما سونے کے زیورات مہر کا حصہ ہوتے ہیں اس لیے ایسے مواقع پر سونے کے سکوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کے ایک سرکردہ رکن اور موجودہ صدر حسن روحانی کے مقرب غلام علی جعفرز ادہ ایمن آبادی نے خبر رساں ایجنسی"خانہ ملت" کو ودیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ سابق حکومتی شخصیات بالخصوص وزراء شادی بیاہ اور دیگر نجی محافل میں اپنے مہمانوں میں سونے کے سکے تقسیم کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی تقریبات میں سونے کے سکوں کی تقسیم کی روایت قاچاری خاندان نے ڈالی تھی جو تھالوں میں سکے رکھ کرمہمانوں کو پیش کرتے تھے۔ سابق صدر احمدی نژاد کی کابینہ کے کئی وزراء بھی تھالوں میں رکھ کر سونے کے سکے اپنے مہمانوں میں تقسیم کرتے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ایران میں قاچاری خاندان کی حکومت 1926ء کو رضا شاہ پہلوی کی بغاوت کے بعد ختم ہوگئی تھی۔

محمد علی جعفر زادہ کا کہنا تھا کہ سابق حکومت کے ایک وزیر کامران دانشجو نے ایک تقریب میں سونے کے سکوں سے بھری کئی تھالیں اپنے مہمانوں میں تقسیم کی تھیں۔ مجموعی طورپر انہوں نے 1430 سکے تقسیم کرڈالے تھے۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ نے وزراء کی جانب سے سونے کے سکوں کو یوں بے دریغ تقسیم کرنے کوقومی خزانے پر ڈاکہ قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملک بدترین معاشی ابتری کا شکار تھا۔عالمی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے براہ راست ہرعام شہری متاثر تھا اور دوسری جانب حکومتی وزراء کے اللے تللے تھے کہ ایک نجی محفل میں 1430 سنہری تقسیم کرکے قومی خزانے کونقصان پہنچا رہے تھے۔

ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی نے اقتدار سنھبالتے ہی ملک میں بدعنوانی کے ناسور کے خاتمے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود وہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بعد ایک نیا نعرہ لگایا گیا اور ملک میں ضعیفوں اور کمزوروں کی حکومت کے دعوے کیے گئے، لیکن عملا ایران میں ہرصاحب اختیار بالخصوص حکومتی ایوانوں میں عہدیدار حصہ بہ قدر جثہ کرپشن میں ملوث ہے۔ کرپشن کا ناسور اس قدر تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے کہ 90 ملین ڈالر کے اثاثوں کے مالک رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔

چندماہ قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ محض کرپشن کرپشن کی زبانی رٹ لگانے سے اس زہرکا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس کے لیے سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ ورنہ چور قومی خزانے کی لوٹ مار جاری رکھیں گے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای ایک طرف کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومتی مداخلت اور فوری کارروائی کے حامی ہیں اور دوسری جانب سابق حکومتی عہدیداروں کے کرپشن کیسز کھولوانے میں بھی رکاوٹ ہیں۔

ایرانی رکن پارلیمنٹ احمد توکلی کہتے ہیں کہ انقلاب ایران کو فوجی طاقت، عوامی بغاوت یا کسی غیرملکی جنگ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کو تباہ کرنے کے لیے کرپشن ہی کافی ہے جو نہایت تیزی کے ساتھ ایران میں پھیل چکی ہے۔

ایک دوسرے ایرانی رکن پارلیمنٹ محمد دھقان کا کہنا ہے کہ ملک میں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات میں کمزوری کے نتیجے میں کرپشن مزید پھیل رہی ہے۔ ہر آنے والا برس کرپشن کے حوالے سے پہلے سے بدتر ہوتا جا رجا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت اعلیٰ حکومتی شخصیات ہرسال ایک ارب ڈالر کے مساوی کرپشن کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرپشن کی روک تھام میں خود حکومت رکاوٹ ہے۔ بعض اہم سابق حکومتی شخصیات کے خلاف کرپشن کیسز اس لیے نہیں کھولے جاتے کہ انہیں آیت اللہ علی خامنہ ای کی براہ راست سرپرستی حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں