احتجاج کچلنے کے لیے 'پاسیج' ملیشیا کی لیڈیز فورس تیار!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران میں حال ہی میں اندرون ملک بد نظمی اور بیرونی خطرات کے تناظر میں پاسداران انقلاب کی عوامی موبلائزیشن فورس" پاسیج" کے 50 ہزار اہلکاروں نے وسیع پیمانے پر جنگی مشقیں کیں۔ بدھ، جمعرات اور جمعہ کے روز ہونے والی ان جنگی مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں 'پاسیج' ملیشیا کی خواتین فورس کو بھی خاص طور پر احتجاجی مظاہرے کچلنے کی تربیت دی گئی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران کے وسط میں ثار اللہ فوجی کیمپ میں ہونے والی ان مشقوں کی نگرانی پاسداران انقلاب کے سینیرعہدیداروں نے کی جب کہ مشقوں میں پاسیج ملیشیا کے پچاس ہزار سے زائد کارکنوں نے حصہ لیا۔

ان مشقوں کی خاص بات خواتین فورس کی تربیت بتائی جا رہی ہے۔ مرد اہلکاروں کی تربیت آئے روز جاری رہتی مگر پہلی بار پاسیج ملیشیا کی خواتین کو مظاہروں کو کچلنے کی تربیت فراہم کی گئی۔ خواتین کو یہ تربیت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک میں پارلیمانی انتخابات اور مصالحتی کونسل کے انتخابات کی آمد آمد ہے۔ امکان ہے کہ ہے کہ انتخابات کے موقع پر اصلاح پسند جماعتوں کی جانب سے قدامت پسندوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔

مشقوں کے دوران 'پاسجی خواتین' کو فن پہلوانی کا مظٖاہرہ کرنے، سڑکوں اور گلیوں محلوں میں احتجاج کی روک تھام کے لیے دفاعی طریقے اپنانے اور عوامی جلوس کو منتشر کرنے کی تربیت فراہم کی گئی۔

ثار اللہ فوجی کیمپ کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مشقیں آیت اللہ علی خامنہ ای کی خصوصی ہدایت پر کی گئی ہیں۔ جنگی مشقوں کے دوران اہم عسکری رہ نمائوں نے خطاب بھی کیا۔ پاسداران انقلاب کے ڈپٹی چیف جنرل حسین سلامی نے حسب معمول امریکیوں کو خوب لتاڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بعد ہم امریکیوں کی پل پل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ اگر ہمیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم امریکا کے اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی مفادات سمیت ہر چیز کو نشانہ بنائیں گے۔

ایران میں فی الحال اندرون ملک کسی قسم کی غیرمعمولی کشیدگی نہیں پائی جا رہی مگر ایرانی ذرائع ابلاغ بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ گارڈین کونسل اور پارلیمان کے انتخابات کےموقع پر بدنظمی پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔

ایران کے بعض صحافتی اور سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے زیر انتظام ہونے والی ان فوجی مشقوں کا مقصد اندرون ملک امن وامان کو یقینی بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار مصالحتی کونسل کے چیئرمین کے عہدے کے لیے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اورآیت اللہ خمینی کے نواسے حسن خمینی بھی امیدوار ہیں۔ اگر حسن خمینی دستبردار نہیں ہوتے تو انتخابات کے موقع پر حالات ابتر ہوسکتے ہیں۔

علی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور حسن خمینی دونوں کو اس وقت اصلاح پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔ ان دونوں رہ نمائوں نے الگ سے سیاسی جماعت تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو موجودہ ایرانی رجیم دل سے قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ان کے ایک بیٹے کو ایران کی ایک عدالت نے حال ہی میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دور حکومت میں کئی اہم سیاسی رہ نمائوں کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی تھیں۔ ان پابندیوں کو عوامی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد ملک میں پھوٹنے والے ہنگاموں میں بھی علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا وزن اصلاح پسندوں کے پلڑے میں رہا تھا۔ انہوں نے سبز انقلاب تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کی شدید مذمت کی تھی اور گرفتار کیے گئے اصلاح پسند سیاسی رہ نمائوں اور کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

قدامت پسند حلقوں کی جانب سے حسن خمینی کو بھی گارڈین کونسل کا سربراہ تسلیم کرنے میں کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب تک ایران کے متشدد خیالات رکھنے والے سیاسی اور مذہبی پیشوا حسن خمینی کو اصلاح پسندوں کا نمائندہ اور ان کا طرف دار خیال کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں