برطانیہ کا شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف امریکا کی قیادت میں فضائی مہم میں شرکت پر غور کررہا ہے اور وہ اس ضمن میں جلد کوِئی حتمی فیصلہ کرے گا جبکہ ایک برطانوی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے خلاف فضائی بمباری کی منظوری کے لیے پارلیمان میں آیندہ ہفتے رائے شماری ہوسکتی ہے۔

سنڈے ٹائمز نے لکھا ہے کہ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اکتوبر کے اوائل میں پارلیمان سے شام میں داعش کے خلاف فضائی حملوں کی منظوری کے لیے قرارداد منظور کرانا چاہتے ہیں۔اخبار نے ایک سینیر حکومتی عہدے دار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون انسانی اسمگلروں کے خلاف بھی انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور فوجی کارروائی کے خواہاں ہیں۔

قبل ازیں فرانسیسی اخبار لی موندے نے اپنے ہفتے کی اشاعت میں لکھا تھا کہ فرانس بھی شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے شروع کرنے کے بارے میں غور کررہا ہے۔واضح رہے کہ قبل ازیں یہ دونوں ممالک عراق میں داعش کے خلاف فضائی مہم میں شریک ہیں لیکن انھوں نے ابھی تک شام میں داعش کے خلاف فضائی حملے شروع نہیں کیے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے جمعہ کے روز یورپ میں تارکین وطن کے بحران کے حوالے سے دباؤ کے بعد کہا تھا کہ برطانیہ ہزاروں مزید شامی مہاجرین کو خوش آمدید کہے گا۔سںڈے ٹائمز نے لکھا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون شام کے نزدیک واقع کیمپوں میں مقیم پندرہ ہزار شامی مہاجرین کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

درایں اثناء برطانوی وزیر خزانہ جارج اوسبورن کا کہنا ہے کہ برطانیہ اور یورپ کو شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے کوئی حل تلاش کرنا ہوگا اور وہاں لڑائی کی وجہ سے جانیں بچا کر آنے والوں کو پناہ دینے سے متعلق بھی کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔

اوسبارن نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''آپ کو شام میں اسد رجیم کی برائی اور داعش کے دہشت گردوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدام کرنا ہوگا اور آپ کو ایک مستحکم اور پُرامن شام کے لیے ایک جامع منصوبہ وضع کرنے کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے ترکی میں جی 20 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس کے موقع پر کہا کہ برطانوی حکومت آیندہ ہفتے اپنے منصوبے کے بارے میں مزید تفصیل جاری کرے گی۔واضح رہے کہ برطانیہ کو شامی بچے ایلان کردی کی ترکی کے ساحلی علاقے میں کشتی کے ایک حادثے میں اندوہناک موت کے بعد سے دباؤ کا سامنا ہے۔اس بچے کی تصویر منظرعام پر آنے کے بعد سے برطانیہ پر شامی مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں