.

ترکی : کرد باغیوں کے ساتھ لڑائی میں دو پولیس اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مشرقی شہر دیار بکر میں علاحدگی پسند باغی گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

ترک ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح کرد باغیوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور کافی دیر تک شہر سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔ شہر کے علاقے سُور میں پولیس اہلکار کرد باغیوں کی کھودی ایک خندق کو پُر کررہے تھے کہ اس دوران انھیں ایک راکٹ گرینیڈ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ترک کی سکیورٹی فورسز نے اس راکٹ حملے کے جواب میں فضائیہ کی مدد سے کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔گورنر کے دفتر نے دیار بکر کے اس علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے اور مکینوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں رہیں اور باہر نہیں نکلیں۔

ترکی کی مسلح افواج نے جولائی میں شام کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے سوروچ میں خودکش بم دھماکے کے بعد سے کرد باغیوں اور شام میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملے شروع کررکھے ہیں۔ان فضائی حملوں کے جواب میں علاحدگی پسند کرد جنگجوترک سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔کرد باغیوں کے ان حملوں اور ان کے ساتھ جھڑپوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے ستر سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

درایں اثناء ترک حکام نے اتوار کو جنوب مشرقی صوبے حکاری میں مقیم ایک ڈچ صحافیہ فریڈرک گیرڈنک کو دوبارہ حراست میں لے لیا ہے۔وہ اس صوبے میں کرد ایشوز کے بارے میں رپورٹنگ کرتی ہیں۔انھیں اس سے پہلے جنوری میں بھی گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کی تشہیر کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن اپریل میں ایک عدالت نے انھیں اس الزام سے بری کردیا تھا اور ان کے خلاف یہ الزام واپس لے لیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ترک حکام نے وائس نیوز سے تعلق رکھنے والے دو صحافیوں کو بھی دہشت گرد گروپوں سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔انھیں بھی بعد میں رہا کردیا گیا تھا لیکن صحافیوں کی ان گرفتاریوں پر صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے پریس کی آزادی کو دبانے کے لیے اقدامات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔