زمینی حرارت سے ماحول دوست توانائی کے حصول کا منصوبہ

سعودی عرب توانائی کے متبادل و قابل تجدید ذرائع کی طرف گامزن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی حکومت نے توانائی کے حصول اور بجلی پیدا کرنے کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ماحول دوست توانائی کے حصول کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس سلسلے میں شمسی توانائی کے منصوبے کے بعد زمین کے درجہ حرارت کے ذریعے بجلی کی تیاری کی ایک تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکام اور ماہرین ایک عرصے سے قابل تجدید اور شفاف توانائی کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ حال ہی میں مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان نے سعودی الیکٹرک کمپنی کے چیئرمین انجینیر زیاد بن محمد الشیحہ سے ملاقات کی۔ دارالحکومت ریاض میں ہونے والی اس ملاقات میں توانائی کے متبادل ذرائع بالخصوص قابل تجدید اور صاف وشفا توانائی کے حصول کے لیے مختلف پہلوئوں اور تجاویز پر غور کیا گیا۔

مدینہ منوری گورنری کے حکام اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو خادم الحرمین الشریفین کے قابل تجدید و شفاف توانائی کے منصوبے پر کام آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ اس کمیٹی کی جانب سے مدینہ منورہ میں شمسی توانائی کے متعدد پروجیکٹ شروع کیے جا چکے ہیں۔ 'پی وی ٹیکنالوجی' کے استعمال سے بجلی پیدا کرنے کی اسکیم کے بعد اب زمین کے درجہ حرارت اور آتش فشانی کے درجہ حرارت سے بجلی پیدا کرنے کی تجاویز زیرغور ہیں۔

شہزادہ فیصل بن سلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے قابل تجدید توانائی کے کئی منصوبوں کو مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مدینہ منورہ میں شمسی توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی مسجد نبوی کو فراہم کی جا رہی ہے۔ شمسی توانائی سے پانی کے تجزیے، ماحول کو سرسبز و شاداب رکھنے اور ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کے لیے ماحول دوست توانائی کے ذرائع سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں