لاپتا سوڈانی لڑکیوں بارے معلومات پر انعام کا اعلان

چار لڑکیوں کی داعش میں شمولیت کاامکان، اہل خانہ پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں چار خواتین کے ایک ہفتے سے لاپتا ہونے اور مبینہ طور پر دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' میں شمولیت کے لیے بیرون ملک سفر کے بعد ان کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ جنگجوئوں کو پکڑنے کے لیے اب تک اس نوعیت کے اعلانات حکومتوں کی جانب سے سامنے آتے رہے ہیں۔ سوڈان میں چار خاندانوں کی جانب سے اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوڈانی ذرائع ابلاغ میں ایک اشتہار چھپا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انتیس اگست 2015ء سے لاپتا چار لڑکیوں کے ٹھکانے یا ان کے بارے میں دیگر معلومات فراہم کرنے والے کو ایک لاکھ سوڈانی پائونڈ جس کی مالیت امریکی کرنسی میں 10 ہزار ڈالر بنتی ہے انعام دیا جائے گا۔

ایک مقامی اخبار نے لاپتا ہونے والی چاروں لڑکیوں کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جب کہ دیگر اخبارات میں شائع اشتہار کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں۔ "جڑواں بہنوں منار اور ابرار عبدالسلام العیدروس الطاھر، آیت اللیثی الحاج یوسف اور ثریا صلاح الدین حامد السید 29 اگست 2015ء سے لاپتا ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات ہیں یا کوئی شخص ان کے ٹھکانے کا پتا بتا سکتا ہے تو اسے 1 لاکھ سوڈانی پائونڈ انعام دیا جائے گا۔ اشتہار میں اہل خانہ کی جانب سے رابطے کے لیے موبائل فون نمبربھی دیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ سوڈان سے تعلق رکھنے والی یہ چاروں دوشیزائیں انیتس اگست کو اچانک لاپتا ہوگئی تھیں۔ خرطوم کے ہوائی اڈے میں نصب کیمروں میں انہیں دیکھا گیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ وہ بیرون ملک روانہ ہوچکی ہیں۔ ان میں سے دو طب کی طالبات ہیں۔

بعض سوڈانی اخبارات کے مطابق لاپتا ہونے والی چاروں دو شیزائوں نے شام اور عراق میں سرگرم انتہا پسند تنظیم دولت اسلامی داعش میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سوڈانی لڑکیوں کی داعش میں شولیت صومالیہ کی جانب سے جاری دستاویزات میں ہوئی ہے تاہم خرطوم میں صومالیہ کے سفارت خانے کی جانب سے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

رواں سال جون میں سوڈان کی میڈیکل سائنس یونیورسٹی کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 17 مرد اور خواتین ڈاکٹر خفیہ طور پر ترکی سے ہوتے ہوئے شام میں دولت اسلامی داعش سے جا ملے ہیں جو اس وقت داعش کے ہاں طبی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

اس سے قبل داعش کی جانب سے بھی پانچ سوڈانی ڈاکٹروں کی تنظیم میں شمولیت کی تصدیق کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں