.

برطانیہ،جرمنی اور فرانس 75 ہزار مہاجرین کو پناہ دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ ،جرمنی اور فرانس نے اپنے ہاں پچھہتر ہزار شامی مہاجرین اوردوسرے تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔مہاجرین کی یہ تعداد ان ایک لاکھ بیس ہزار افراد میں شامل ہے جو حالیہ دنوں میں جنگ زدہ شام اور بعض افریقی ممالک سے زمینی اور بحری راستے کے ذریعے یونان،اٹلی ،آسٹریا اور ہنگری وغیرہ پہنچے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے دارالعوام میں سوموار کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ آیندہ پانچ سال کے دوران جنگ زدہ شام کے پڑوسی ممالک میں کیمپوں میں مقیم بیس ہزار مہاجرین کو پناہ دے گا۔انھوں نے کہا کہ ہم اس پارلیمان کی مدت کے دوران میں شامی مہاجرین کو ملک میں بسانے کی تجویز پیش کررہے ہیں۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر نے شامی مہاجرین اور دوسرے تارکین وطن کو تنظیم کے رکن ممالک میں بسانے کے لیے ایک منصوبہ تجویز کیا ہے۔اس کا وہ آیندہ بدھ کو اعلان کرنے والے ہیں۔اس کے تحت جرمنی 31443 اور فرانس 24031 مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے گا۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے سوموار کو ایلزے پیلس پیرس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران اس تجویز کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی کمیشن کے منصوبے کے تحت چوبیس ہزار مہاجرین کو قبول کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ ایک بحران ہے۔اس میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے۔اس کو کنٹرول میں لایا جاسکتا ہے اور ایسا کیا جائے گا''۔

جرمنی چانسلر اینجیلا مرکل نے بھی کہا ہے کہ مہاجرین کی ریکارڈ تعداد میں آمد آیندہ برسوں کے دوران ان کے ملک کو تبدیل کردے گی۔واضح رہے کہ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے۔اس ملک میں صرف اختتام ہفتہ پر بیس ہزار مہاجرین کی آمد ہوئی ہے۔

جرمنی نے خانہ جنگی کا شکار شام سے بے گھر ہونے والے مہاجرین کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اور حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں نے ان مہاجرین کی آباد کاری اور دیکھ بھال کے لیے آیندہ سال کے دوران چھے ارب ستر کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قدامت پسند سی ڈی یو اور سوشل ڈیمو کریٹ ایس پی ڈی جماعتوں نے اتوار کی شب ایک اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''وفاقی حکومت اپنے 2016ء کے بجٹ کی رقم میں تین ارب یورو کا اضافہ کرے گی تاکہ مہاجرین اور پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹا جاسکے۔اس رقم کے علاوہ علاقائی ریاستی حکومتیں اور مقامی حکام بھی مزید تین ارب یورو کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے''۔