.

جرمنی میں مہاجرین کے لئے عارضی پناہ گاہیں قائم

میرکل حکومت نے سماجی بہبود، میونسپلٹی کے لئے 6 ملین ڈالر مختص کر دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مشرقِ وسطیٰ اور افریقا کے جنگ زدہ علاقوں سے فرار ہو کر غیر قانونی راستوں سے یورپ پہنچنے والے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے اعلان کے بعد گذشتہ دو روز کے دوران 20 ہزار سے زائد تارکینِ وطن جرمنی اور آسٹریا پہنچ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "یو این ایچ سی آر" نے ہزاروں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی میزبانی کرنے کے فیصلے پر جرمنی اور آسٹریا کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ "انسانی اقدار پر مبنی سیاسی قیادت" کا فیصلہ ہے۔

مشرقی وسطیٰ اور افریقی ملکوں سے ہزاروں افراد پرخطر ذرائع سے سفر کر کے ہنگری پہنچے تھے جہاں کئی دنوں تک پھنسے رہنے کے بعد جمعہ کو انھوں نے آسٹریا اور جرمنی کی طرف رخ کیا جنہوں نے ان لوگوں کے لیے اپنی سرحدیں کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

حکام کے مطابق ہنگری میں کئی روز سے پھنسے پناہ گزینوں کو لے کر کئی ٹرینیں آسٹریا پہنچی ہیں جہاں سے ہزاروں تارکینِ وطن کو آگے جرمنی روانہ کر دیا گیا ہے۔

اتوار کو جب ہنگری سے آنے والے مہاجرین ریل گاڑیوں سے باہر نکلے تو بڑے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ مہاجرین کا استقبال کرنے والوں نے ہاتھوں میں رنگا رنگ غبارے اٹھا رکھے تھے، یہ لوگ مہاجرین کی تصاویر اُتار رہے تھے اور اُنہیں پانی، خوراک اور کپڑے پیش کر رہے تھے۔

شام کے تباہ شُدہ شہر القصیر سے آنے والے ایک بتیس سالہ نوجوان محمد نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’یہ لوگ ہمارے ساتھ اتنا اچھا برتاؤ کر رہے ہیں، یہ لوگ ہمارے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کر رہے ہیں، ویسا نہیں، جیسا شام میں ہو رہا ہے۔‘‘

لوگ جیسے ہی ریل گاڑیوں سے اترتے ہیں، بسیں اُنہیں ابتدائی رہائش گاہوں میں پہنچانے کے لیے پہلے سے کھڑی ہوتی ہیں۔ یہ عارضی رہائش گاہیں ملک بھر کی سرکاری عمارات، ہوٹلوں اور فوجی بیرکوں میں قائم کی گئی ہیں۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کو درپیش مہاجرین کے اس سب سے بڑے بحران نے مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان خلیج بھی نمایاں کر دی ہے۔ مشرقی ملکوں کا سرخیل ہنگری ہے، جس نے پہلے تو مہاجرین کو روکے رکھا اور پھر اُنہیں آگے آسٹریا اور جرمنی کی طرف روانہ کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ بوڈاپیسٹ حکومت یورپی یونین کی ’ناکام امیگیریشن پالیسی‘ کو مسترد کرتی ہے۔

جنگ سے تباہ حال شام میں بڑے پیمانے پر ابتلا اور مصائب کے پیشِ نظر جرمنی نے اپنی معمول کے ضوابط کو ترک کرتے ہوئے مہاجرین کی بہت بڑی تعداد کو پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سال یورپی یونین کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں جرمنی کہیں زیادہ مہاجرین کو پناہ دینے والا ہے۔

جرمنی میں رواں سال مجموعی طور پر آٹھ لاکھ مہاجرین کی آمد متوقع ہے۔ یہ تعداد گزشتہ پورے سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہو گی۔ ان مہاجرین کو ٹھہرانے پر دَس ارب یورو کی لاگت آئے گی۔